اٹلی کے حکام نے افغان شہری ماروائس صافی کو حراست میں لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص کے شدت پسند تنظیم داعش خراسان سے روابط ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص افغانستان سے بھارت کے راستے اٹلی پہنچا تھا۔ حکام نے اس کے قبضے سے اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور مواصلاتی ہدایات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم رپورٹ کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ میں افغانستان کی سرزمین کو شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سفری دستاویزات، اسکریننگ اور بین الاقوامی سکیورٹی روابط پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مبینہ طور پر اس روٹ کے استعمال کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلسل سرحد پار دہشت گردی اور شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے پر زور دیتا رہا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار نیٹ ورکس علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے سرحد پار سکیورٹی نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ علاقائی سطح پر مشتبہ عناصر کی نقل و حرکت روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر زور دیا جا رہا ہے۔