ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں افغان شہریوں کی شناخت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت نے افغانستان سے پاکستان میں جاری سرحد پار دہشت گردی کے شواہد کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پانچ اکتوبر کو فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی میں مارے جانے والے دو اہم دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ان کی شناخت صفت اللہ عرف سیف اللہ جمشید ساکن پکتیا اور عمر فدائی کے نام سے ہوئی ہے۔
ہلاک خارجیوں کے اپنے آبائی علاقوں میں روابط بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں باقاعدہ تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ پکتیا کے ضلع جانی خیل میں صفت اللہ کی تعزیت کے دوران فتنۃ الخوارج کے پرچم والے پوسٹرز کھلے عام آویزاں کیے گئے۔
سرحد پار شمولیت کا یہ سلسلہ محض ایک واقعے تک محدود نہیں ہے۔ اس سے قبل شمالی وزیرستان میں مارے گئے سات دہشت گردوں میں قندھار کا رہائشی حافظ محب اللہ عرف خالد بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ گل بہادر گروپ سے وابستہ اہم کمانڈر عبداللہ جان بھی حالیہ کارروائی میں ہلاک ہو چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث دو سو ستاون سے زائد افغان شہریوں کی شناخت پہلے ہی ہو چکی ہے۔ حالیہ ہلاکتوں نے اس فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں ہلاک شدگان کی کھلے عام پذیرائی سرحد پار منظم نیٹ ورک کی موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ صورتحال افغان سرزمین پر موجود شدت پسندوں کو حاصل سازگار ماحول پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
دیکھیے: افغان باشندہ اٹلی میں گرفتار، بھارت کے راستے سفر اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات