حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی، فضل الرحمان مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کرانے کو تیار ہیں۔

October 8, 2026

وزارت اطلاعات و نشریات نے حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق نیویارک ٹائمز کی خبر کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا۔

October 8, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں پہلے سے تعینات ہیں، جبکہ ترکیہ فی الحال سعودی عرب کو دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

October 8, 2026

وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع خیبر میں اسکول فرنیچر سے محروم ہیں اور بچیاں فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

October 8, 2026

برطانوی عدالت نے برسٹل میں 17 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے جرم میں تین افغان شہریوں کو مجموعی طور پر 33 سال قید کی سزا سنا دی۔

October 8, 2026

بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ کے پی حکومت پولیس کو فنڈز دینے میں ناکام رہی، عوام نااہلی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

October 8, 2026

سرحد پار دہشت گردی: کرم اور وزیرستان میں مارے گئے خارجی افغان شہری نکلے

سرحد پار دہشت گردی اور افغان شہری

کرم اور وزیرستان میں ہلاک دہشت گرد افغان شہری نکلے۔ ان ہلاکتوں نے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

October 8, 2026

ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں افغان شہریوں کی شناخت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت نے افغانستان سے پاکستان میں جاری سرحد پار دہشت گردی کے شواہد کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پانچ اکتوبر کو فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی میں مارے جانے والے دو اہم دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ان کی شناخت صفت اللہ عرف سیف اللہ جمشید ساکن پکتیا اور عمر فدائی کے نام سے ہوئی ہے۔

ہلاک خارجیوں کے اپنے آبائی علاقوں میں روابط بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں باقاعدہ تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ پکتیا کے ضلع جانی خیل میں صفت اللہ کی تعزیت کے دوران فتنۃ الخوارج کے پرچم والے پوسٹرز کھلے عام آویزاں کیے گئے۔

سرحد پار شمولیت کا یہ سلسلہ محض ایک واقعے تک محدود نہیں ہے۔ اس سے قبل شمالی وزیرستان میں مارے گئے سات دہشت گردوں میں قندھار کا رہائشی حافظ محب اللہ عرف خالد بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ گل بہادر گروپ سے وابستہ اہم کمانڈر عبداللہ جان بھی حالیہ کارروائی میں ہلاک ہو چکا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث دو سو ستاون سے زائد افغان شہریوں کی شناخت پہلے ہی ہو چکی ہے۔ حالیہ ہلاکتوں نے اس فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں ہلاک شدگان کی کھلے عام پذیرائی سرحد پار منظم نیٹ ورک کی موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ صورتحال افغان سرزمین پر موجود شدت پسندوں کو حاصل سازگار ماحول پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

دیکھیے: افغان باشندہ اٹلی میں گرفتار، بھارت کے راستے سفر اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات

متعلقہ مضامین

حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی، فضل الرحمان مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کرانے کو تیار ہیں۔

October 8, 2026

وزارت اطلاعات و نشریات نے حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق نیویارک ٹائمز کی خبر کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا۔

October 8, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں پہلے سے تعینات ہیں، جبکہ ترکیہ فی الحال سعودی عرب کو دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

October 8, 2026

وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع خیبر میں اسکول فرنیچر سے محروم ہیں اور بچیاں فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

October 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *