کنگز کالج لندن میں 28 ستمبر کو منعقد ہونے والی ایک بریفنگ کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ یوٹیوبر عادل راجہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک سنجیدہ علمی نشست کی تفصیلات افشا کر کے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
مذکورہ بریفنگ معروف چیٹم ہاؤس رول کے تحت منعقد کی گئی تھی، جس کا اعتراف خود عادل راجہ نے بھی کیا۔ اس عالمی ضابطے کے تحت حاصل ہونے والی معلومات کا استعمال تو ممکن ہے، مگر مقررین یا شرکا کی شناخت اور وابستگی ظاہر کرنے پر سخت پابندی عائد ہوتی ہے۔
اس ضابطے کے برعکس، عادل راجا نے بریفنگ کے فوری بعد کنگز کالج سے ہی ایک وی لاگ ریکارڈ کیا۔ انہوں نے نشست کو کلاسیفائیڈ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں چین سے متعلق خفیہ نقشے اور انٹیلی جنس معلومات پیش کی گئیں۔
وی لاگ میں عادل راجہ نے شرکا کی شناخت بھی ظاہر کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہال میں چینی، تائیوانی، چند بھارتی اور ایک دو پاکستانی شرکا موجود تھے، جو کہ رازداری کے واضح اصولوں سے روگردانی سمجھی جا رہی ہے۔
عادل راجہ نے ڈاکٹر بلینڈن کا نام لے کر مختلف بیانات اور معلومات ان سے منسوب کیں اور مبینہ چین مخالف مہم کو آگے بڑھایا۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ ان کی پیش کردہ تفصیلات من گھڑت، مسخ شدہ اور غیر متعلقہ انداز میں جوڑی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق محض سوشل میڈیا ویوز اور سنسنی خیزی کے لیے ایک سنجیدہ علمی و فکری بریفنگ کو پروپیگنڈا مواد میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس عمل سے نہ صرف ڈاکٹر بلینڈن بلکہ کنگز کالج لندن جیسے معتبر تعلیمی ادارے کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کرنے کی کوشش کی گئی۔
اب علمی و سماجی حلقوں کی جانب سے کنگز کالج لندن کی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین خلاف ورزی کا فوری نوٹس لے۔ مطالبے میں واضح کیا گیا ہے کہ ادارے کو چیٹم ہاؤس رول کی پامالی پر عادل راجہ کے خلاف باقاعدہ انضباطی و قانونی کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔