اسلام آباد کی شاہراہوں، یونیورسٹیوں اور کتب خانوں سے اٹھنے والا کوئی بھی جنازہ معاشرے کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے، مگر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی ذہین طالبہ لائبہ کا یہ سفر اس نظام کی سنگینی کو عیاں کرتا ہے جہاں خواب دیکھنا جرم بن چکا ہے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ایک ہونہار طالبہ، جس کے والد نے موٹر سائیکل پر دودھ بیچ کر اور اپنی چھوٹی سی جمع پونجی، پلاٹ اور زیور تک داؤ پر لگا کر اسے پڑھایا، اس کی منزل بیرون ملک تعلیم نہیں بلکہ موت بنی۔
ستر لاکھ روپے کے اس فراڈ میں صرف ایک خاندان کی پونجی ہی نہیں لٹی، بلکہ ایک باپ کا وہ غرور بھی ٹوٹ گیا جو وہ اپنی بیٹی کی کامیابیوں پر کیا کرتا تھا۔ لائبہ کا وہ آخری پیغام کہ میرے والد کو نہ بتانا، وہ مر جائیں گے، اس نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو دھوکے بازوں اور انسانیت کے سوداگروں کو تو کھلی چھوٹ دیتا ہے، مگر محنت کشوں کے بچوں کو دیوار سے لگا دیتا ہے۔
یہ المیہ صرف ایک طالبہ کی خودکشی کا نہیں، بلکہ اس ناسور کا ہے جو ویزا کنسلٹنٹس اور جعلی ایجنٹوں کی شکل میں معاشرے کی رگوں میں زہر گھول رہا ہے۔ یہ کون سا قانون ہے جہاں ڈھکی چھپے دلال لاکھوں روپے لوٹ لیتے ہیں، جعلی دستاویزات کے ذریعے نوجوانوں کے مستقبل کو روند دیتے ہیں، اور قانون خاموش تماشائی بنا رہتا ہے؟ لائبہ اکیلی نہیں تھی؛ اس کے پیچھے ایک غریب باپ کی دہائیاں تھیں، ایک ماں کی دعائیں تھیں اور ایک پورا مستقبل تھا جو چند دلالوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ گیا۔
اگر اس معاملے میں فوری، شفاف اور سخت ترین کارروائی عمل میں نہ لائی گئی اور اس نام نہاد نعمان جیسے ایجنٹ کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا، تو یہ نظام ایسے کتنے ہی اور نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیلتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرے، تعلیمی فراڈ کے اس نیٹ ورک کا مکمل قلع قمع کیا جائے اور اس غریب خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ کسی اور بیٹی کو اپنے باپ کی موت کے خوف سے خودکشی کا راستہ نہ چننا پڑے۔