افغانستان کے شہر جلال آباد میں طالبان حکومت کے درجنوں مسلح اہلکاروں پر 40 سے زائد خاندانوں کو زبردستی ان کے مکانات سے بے دخل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 10 اکتوبر کو ننگرہار کے صوبائی مرکز جلال آباد کے علاقے انگور باغ میں پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق طالبان کمانڈر شہاب الدین دلاور سے وابستہ 70 سے 80 کے قریب مسلح افراد نے ٹینکوں اور ملٹری گاڑیوں کے ساتھ علاقے کا محاصرہ کیا۔ بعد ازاں رہائشیوں کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا اور ان کا سامان سڑکوں پر پھینک دیا گیا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جائیدادوں کی قانونی ملکیت کے تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں۔ اس کے باوجود انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے کر بے دخل کیا گیا۔ رہائشیوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی ملکیتوں پر قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے جعل سازی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس کارروائی کے نتیجے میں خواتین اور بچے سخت خوف و ہراس کا شکار ہو گئے جبکہ متاثرہ افراد اپنے ہی گھروں سے محروم ہو کر کھلے آسمان تلے آ گئے۔ شدید متاثرہ شہریوں نے واقعے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
دیکھیے: صدر مملکت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی منظوری دے دی، سمری پر دستخط





