آن لائن دوستی کے پیچھے چھپا خطرناک جال، 13 سالہ بچی کیسے نشانے پر آئی؟
انٹرنیٹ کی اس تیز رفتار اور روشن دنیا میں ہر مسکراتا چہرہ دوست نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر مددگار نظر آنے والا شخص مددگار ہوتا ہے بلکہ مکار بھی ہوتا ہے۔ کراچی میں 13 سالہ معصوم بچی کو ایک مبینہ آن لائن نیٹ ورک کے شاطرانہ جال سے بچانے کا واقعہ اس تلخ اور خوفناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہمارے گھروں کی چار دیواری کے اندر تک پہنچ چکی ہے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے بین الاقوامی خفیہ ایجنسی کی اطلاع پر کی جانے والی اس کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈارک ویب سے منسلک گروہ اب معصوم بچوں کو انتہائی منظم اور شاطرانہ طریقے سے اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس پورے واقعے کا سب سے تشویش ناک اور فکری پہلو مددگار یا مکار کا وہ دوہرا روپ ہے جو ایسے سائبر مجرم استعمال کرتے ہیں۔ یہ عناصر بچوں پر اچانک ہجوم نہیں کرتے اور نہ ہی شروعات میں کوئی خوف پیدا کرتے ہیں، بلکہ وہ پہلے ہمدرد اور بہترین دوست بن کر بچے کا مکمل اعتماد حاصل کرتے ہیں۔
وہ بچے کی تنہائی، جذباتی ناپختگی یا کسی ذہنی الجھن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ان کا سب سے بڑا خیرخواہ ظاہر کرتے ہیں، اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ایک ایسے اندھیرے راستے پر لے جاتے ہیں جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔
جب بچہ اس نام نہاد دوست کے سحر اور مکمل اعتماد میں آ جاتا ہے، تو پھر اسے مرحلہ وار اور خطرناک ٹاسک دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس واقعے میں بھی سامنے آیا کہ بچی کو پہلے ایک معصوم بلی کو زہر دے کر مارنے کا حکم دیا گیا اور اس کے بعد خود کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے جیسے بھیانک چیلنجز دیے گئے۔ اس شاطرانہ کھیل میں سب سے خطرناک عنصر اس رابطے کو خفیہ رکھنے کی شرط ہوتی ہے۔ بچے کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ ان کی اور ان کے دوست کی خاص بات ہے جسے والدین یا کسی بڑے سے شیئر نہیں کرنا، تاکہ بچہ مکمل طور پر الگ تھلگ ہو کر ان کے کنٹرول میں آ جائے۔
اس واقعے نے ایک اور سنگین حقیقت کو بے نقاب کیا ہے اور وہ ہے والدین کی اپنے بچوں کی ڈیجیٹل دنیا سے مکمل لاعلمی۔ ہمارے معاشرے میں اکثر والدین یہ سوچ کر اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ ان کا بچہ گھر میں، ان کی آنکھوں کے سامنے، اپنے کمرے میں محفوظ بیٹھا موبائل یا لیپ ٹاپ استعمال کر رہا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پردے کے پیچھے ایک نادیدہ اور خطرناک شکاری بچے کے ذہن کو اپنے قابو میں کر رہا ہوتا ہے۔ والدین کی یہ ناواقفیت کسی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں اور اس کے جدید خطرات سے عدم آگی کا نتیجہ ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک بچی کی حفاظت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پورے معاشرے، اسکولوں اور خصوصاً والدین سے یہ سوال کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کا اعتماد کون اور کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بچے اپنی معصومیت اور جذباتی کمزوری کی وجہ سے سچے دوست اور مکار دشمن کا فرق نہیں سمجھ پاتے۔ وہ ہر میٹھی بات کرنے والے اور سہارا دینے والے کو سچ مچ کا مددگار سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ اس مددگار کے نقاب کے پیچھے ایک نہایت سفاک اور مکار شکاری چھپا ہوتا ہے۔
اس سنگین صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم بطور معاشرہ فوری اور عملی اقدامات کریں۔ سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ ڈر اور خوف سے پاک، دوستانہ اور اعتماد کا رشتہ قائم کرنا ہوگا تاکہ بچہ کسی بھی اجنبی کے پیغام، عجیب ٹاسک یا دھمکی کا ذکر بغیر کسی شرمندگی یا خوف کے فوراً اپنے گھر والوں سے کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر دوستانہ اور غیر محسوس انداز میں نظر رکھنا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
اس کے علاوہ بچوں کو یہ بنیادی ڈیجیٹل تربیت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کہ اگر انٹرنیٹ پر کوئی بھی شخص انہیں کوئی کام خفیہ رکھنے، جانوروں کو نقصان پہنچانے، خطرناک چیلنجز پورے کرنے یا خود کو تکلیف دینے کے لیے کہے تو فوراً اس سے رابطہ منقطع کریں اور کسی قابلِ اعتماد بڑے کو آگاہ کریں۔
مددگار یا مکار کی اس پہچان کو عام کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ ہمارے بچوں کی زندگی، ان کی حفاظت اور ان کی ذہنی صحت کا ضامن ہے، کیونکہ بعض اوقات خطرہ کسی اجنبی کے روپ میں نہیں بلکہ ایک مخلص دوست بن کر سامنے آتا ہے۔





