پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا شمار ایک ایسے پارلیمانی کھلاڑی اور مدبر سیاست دان کے طور پر ہوتا رہا ہے جن کی ہر بات کو سیاسی فورمز اور ایوانوں میں سند اور وزن دیا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسے خانوادے کے وارث ہیں جس نے ملکی آئین سازی، جمہوری روایات اور پارلیمانی اخلاقیات کی نرسری کے طور پر کام کیا۔
مفتی محمود مرحوم کی سیاسی فراست اور تحمل پر مبنی سیاست نہ صرف ان کے اپنے مکتبِ فکر بلکہ حریف سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی دہائیوں تک اسی طرزِ فکر اور فہم و فراست کے ساتھ ملکی سیاست میں اپنا مقام بنایا۔
تاہم، حالیہ چند سالوں میں مولانا فضل الرحمٰن کا بیانیہ اور سیاسی لب و لہجہ اس شاندار سیاسی تاریخ سے واضح انحراف کا پتہ دیتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ مولانا کی گفتگو میں دلیل، قانون اور آئینی نزاکتوں کی گہرائی ہوتی تھی، لیکن اب ان کا اندازِ تخاطب جذباتی نعرے بازی، بے دھڑک بیانات اور سخت ترین الفاظ پر مبنی نظر آتا ہے۔ ریاست، اداروں اور مخالفین کے خلاف آئے روز کا تلخ بیانیہ نہ صرف ان کے اپنے قد کاٹھ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ان کی اس سیاسی وراثت کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے جو ان کے والد نے اپنے پیچھے چھوڑی تھی۔
اس بیانیے اور سیاسی زوال کی ایک بنیادی وجہ مولانا فضل الرحمٰن کے گرد بدلتا ہوا مشیروں اور رہنماؤں کا حلقہ ہے۔ ماضی میں جمیعت علمائے اسلام کے پاس مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد اور مولانا گل نصیب خان جیسی پختہ کار، تجربہ کار اور روایات سے جڑی شخصیات موجود تھیں۔ یہ وہ رہنما تھے جو اصولوں پر بات کرتے، اختلاف میں بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے اور مولانا کو ہر ہیجانی قدم سے باز رکھتے تھے۔
اس کے برعکس، آج مولانا کے دائیں بائیں راشد محمود سومرو اور ضیاء الرحمٰن جیسے نوجوان اور جذباتی چہرے نظر آتے ہیں۔ راشد سومرو جیسے رہنما اپنی تلخ کلامی، جذباتی تقاریر اور جارحانہ لائحہ عمل کے لیے جانے جاتے ہیں، جب کہ ضیاء الرحمٰن جیسے قریبی خاندانی و پارٹی حلقے سیاسی بصیرت اور پارلیمانی متانت کے مقابلے میں محض جذباتی و انتظامی وفاداری تک محدود ہیں۔ موجودہ نچلی و درمیانی قیادت اور نوجوان سیاسی حلقہ نہ تو مشرقی اقدار کی نزاکتوں سے واقف ہے اور نہ ہی انہیں ان سیاسی روایات کی پاسداری کا احساس ہے جن کی بنیاد پر جمیعت نے پارلیمانی جمہوریت میں احترام پایا تھا۔
جب کسی تجربہ کار قائد کے ارد گرد جذباتی اور سیاسی ناپختگی کے حامل افراد کا گھیرا بن جائے، تو اس کی سیاسی حکمتِ عملی میں تدبر کی جگہ ہیجان اور دلیل کی جگہ محض غصہ لے لیتا ہے۔ آئے روز ریاست اور اداروں کے خلاف لچھے دار اور اشتعال انگیز الفاظ کا استعمال، وقتی طور پر مجمع تو گرم کر سکتا ہے، مگر اس سے شخصیت کی وہ وقعت اور قدر ختم ہو جاتی ہے جس کی بنیاد پر ماضی میں ان کے ایک جملے کو فیصل کن سمجھا جاتا تھا۔
یہ صورتِ حال خود مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ایک سنگین لمحہ فکریہ ہے۔ انہیں خود سوچنا ہوگا کہ دہائیوں کی محنت سے بنائی گئی ان کی وقعت، ان کی سیاسی تاریخ اور ان کے والد کا مانا ہوا نام آخر کس ڈگر پر چل پڑا ہے۔ اختلاف کرنا جمہوریت کا بنیادی حق ہے، لیکن ایک معتبر اور سینیئر ترین رہنما کے شایانِ شان صرف وہی اختلاف ہوتا ہے جو تہذیب، متانت اور آئینی حدود کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔ مولانا کو اپنے موجودہ مشیروں کے رویے اور اپنی سیاسی سمت کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا، ورنہ تاریخ کا یہ فیصلہ سخت ہوگا کہ ایک معتبر مدبر نے اپنے گرد موجود ناپختہ حلقے کی وجہ سے اپنا تمام کمایا ہوا احترام خود ہی نذرِ آتش کر دیا۔





