پاکستان میں بچوں کی جسمانی نشوونما میں کمی (اسٹنٹنگ) کے سنگین مسئلے پر سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے درمیان ایک اہم فکری بحث سامنے آئی ہے۔
راشد لنگڑیال کے مطابق ملک میں بچوں کی متاثرہ نشوونما کے بنیادی عوامل میں غربت، غذائیت کی کمی، الودہ پانی اور صفائی کے ناقص انتظامات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2045 تک ملک کی ایک تہائی افرادی قوت انہی متاثرہ بچوں پر مشتمل ہوگی، جس سے مستقبل کا اقتصادی اور سماجی ڈھانچہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے راشد لنگڑیال کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس بحران کی اصل جڑ اور بنیادی وجہ خراب طرزِ حکمرانی (گورننس) ہے۔
All four factors listed by @Rashidlangrial, poverty, nutrition, water quality and sanitation affect child stunting. But the most obvious factor, which is the base of all other factors, is governance. As you go from Amritsar to Lahore nothing changes except governance. Same… https://t.co/lIY3CmqkvF
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) October 27, 2026
مفتاح اسماعیل نے وضاحت کی کہ امرتسر سے لاہور اور گنگانگر سے بہاولنگر تک جغرافیہ، موسم اور قدرتی وسائل یکساں ہیں، لیکن صرف طرزِ حکمرانی کے فرق کی وجہ سے دونوں طرف کے نتائج میں واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔
انہوں نے ملکی سطح پر مثال دیتے ہوئے کہا کہ رحیم یار خان سے گھوٹکی یا کشمور کے درمیان موجود فرق بھی دراصل انتظامی صلاحیت اور حکمرانی کے معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کی نشوونما متاثر ہونے کی اصل وجوہات بدعنوانی، نااہلی، سیاسی وژن کا فقدان اور انتظامی ڈھانچے کی سنگین خامیاں ہیں۔
اس سے قبل راشد لنگڑیال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مستقبل کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن پانچ سال سے کم عمر بچوں کا صحت سے متعلق نقشہ ہمارے غلط فیصلوں کی نشان دہی کرتا ہے، جہاں ہر 5 میں سے 2 بچے قد کی کمی کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلع گجرات کے نتائج ٹھٹھہ سے مختلف ہیں، جبکہ ہری پور اور کوہستان ایک ہی صوبے میں دو الگ دنیاؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست نے کن علاقوں تک رسائی کو ترجیح دی۔
ماہرین کے مطابق زندگی کے پہلے ایک ہزار دن انتہائی اہم ہوتے ہیں اور اگر اس دوران بچوں کی ضروریات پوری نہ کی جائیں تو 2045 اور 2060 کی دہائیوں میں ملک کی افرادی قوت اور ٹیکس دہندگان کی پیداواری صلاحیت شدید متاثر رہے گی۔





