طالبان انتظامیہ نے خطے میں امن کے قیام کے بجائے دہشت گرد پروکسیز کی سرپرستی کو ترجیح دینے کا پالیسی فیصلہ برقرار رکھا ہے اور پاکستان کی جانب سے کسی بھی متوقع جوابی کارروائی سے نپٹنے کے لیے دفاعی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پاکستانی فضائی صلاحیتوں کے خوف سے طالبان حکومت کابل سے جہازوں کے غیر استعمال شدہ اسپیئر پارٹس ہرات اور مزار شریف منتقل کر رہی ہے۔ جبکہ فعال اسپیئر پارٹس کو موجودہ مقامات پر ہی پھیلا کر چھپانے کے لیے 100 سے زائد 20 فٹ کے کنٹینرز حاصل کیے گئے ہیں۔
حکمت عملی کے تحت طالبان انتظامیہ نے اپنے بارود کے ذخائر اور ڈرون سہولیات کو گنجان آباد شہری علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ سویلین آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سرفہرست رہنماؤں نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کو ممکنہ پاکستانی فضائی حملوں سے بچانے کے لیے کابل کی بڑی رہائشی عمارتوں اور اپارٹمنٹس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ممکنہ حملوں کی صورت میں طالبان انتظامیہ نے ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے ‘شہری علاقوں اور تجارتی منڈیوں’ پر حملوں کے پیشگی بیانات اور ماضی کے حوادث کی تصاویر جمع کر لی گئی ہیں۔
اگر طالبان حکومت اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی کی پالیسی ترک کر دیتی تو ان اقدامات کی ضرورت نہ پڑتی، مگر روایتی طرزِ عمل تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا۔





