بھارتی بحریہ اپنے 26 رافیل ایم جنگی طیاروں کو مقامی ساختہ بحری میزائل این اے ایس ایم ایم آر سے لیس کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ بھارتی دفاعی ویب سائٹ آئی ڈی آر ڈبلیو کے مطابق یہ اقدام فرانسیسی ساختہ ایکزوسیٹ میزائل کی جگہ کیا جا رہا ہے تاکہ طیاروں کی مار کرنے کی صلاحتی کو 70 کلومیٹر سے بڑھا کر 350 کلومیٹر تک پہنچایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس نئے اینٹی شپ میزائل سسٹمز کے اہم مرحلے کے تجربات 2027 میں مگ 29 کے طیاروں سے کیے جائیں گے۔ بعد ازاں تمام 26 رافیل ایم طیاروں کی مکمل فراہمی کے بعد 2030 کے قریب ان پر انضمام کی ابتدائی آزمائشیں متوقع ہیں، جن میں آسترا اور رودرم ون میزائلوں کی تنصیب بھی شامل ہے۔
دوسری جانب بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارہ ڈی آر ڈی او اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ ہائپرسونک میزائل کی رینج 1500 سے بڑھا کر 3500 کلومیٹر کرنے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے۔ رپورٹس کے مطابق ضروری سافٹ ویئر تبدیلیوں اور نئے پروازی راستوں کی توثیق کے بعد اس کی پیداواری منظوری 2028 یا 2029 تک حاصل کی جا سکے گی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان طویل المیعاد منصوبوں کی مکمل تکمیل سے قبل تکنیکی مرحلہ وار منظوری اور مختلف تجربات درکار ہوں گے، جبکہ بھارتی حکام یا وزارتِ دفاع کی جانب سے رافیل ایم اور ہائپرسونک میزائل کی رینج میں اضافے کے دعوؤں کی باضابطہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔





