قومی امن کمیٹی نے بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے خواتین کی بھرتی، بلیک میلنگ اور استحصال سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی نے یہ مؤقف کوئٹہ میں علمائے کرام اور صوبائی نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے بعد جاری کیا۔
اجلاس میں بلوچستان کی صورتحال اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سوال اٹھایا گیا کہ صوبے کے حقوق کے نام پر سڑکوں، پلوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کا کیا جواز ہے؟
علمائے کرام نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں دہشت گرد گروہوں کی بھرتی سے محفوظ رکھنے کے لیے کردار ادا کریں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
قومی امن کمیٹی نے خواتین کے استحصال اور نوجوانوں کی مبینہ بھرتی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دیکھیے: انڈونیشیا: ایک ہی ماہ میں ہزاروں اموات، آخر وجہ کیا بنی؟





