امریکی ڈسٹرکٹ جج ویلیری کیپرونی نے نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے افغان شہریوں کی افغانستان یا پاکستان واپسی عارضی طور پر روک دی ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ یہ حکم نامہ 7 نومبر 2026 تک نافذ العمل رہے گا۔
امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ فی الوقت رواں ہفتے کے دوران افغان شہریوں کی نقل و مکانی یا واپسی کے لیے کسی بھی چارٹرڈ یا کمرشل پرواز کا منصوبہ طے نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، امریکی انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ پرواز امریکی ریاست لوزیانا کے شہر الیگزینڈریا سے روانہ ہونی تھی، جس کی حتمی منزل پاکستان طے کی گئی تھی۔
امریکی ایوان کے 66 ارکان نے بھی اس ممکنہ قدم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان شہریوں کی زبردستی واپسی انہیں طالبان کے زیر اثر خطے میں شدید خطرات اور تشدد سے دوچار کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ عدالت کا یہ حکم نامہ ملک بدری کے منصوبے کو مستقل طور پر ختم نہیں کرتا۔ اس حکم کی قانونی مدت 7 نومبر کو ختم ہو جائے گی، جبکہ تمام افغان شہری بدستورامریکی عدالت نے افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے افغانستان ملک بدری کا منصوبہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کی ڈسٹرکٹ جج ویلیری کیپرونی نے حکم جاری کرتے ہوئے افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان بھیجنے پر عارضی پابندی عائد کر دی، جو 7 نومبر 2026ء تک نافذ العمل رہے گی۔
امریکی امیگریشن و کسٹم حکام نے عدالت کو بتایا کہ رواں ہفتے افغان شہریوں کی نقل و مکانی کے لیے کسی پرواز کا منصوبہ طے نہیں ہے۔ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ سخت امیگریشن پالیسی کے تحت 150 سے زائد افغان شہریوں کو ریاست لوزیانا کے شہر الیگزینڈریا سے پاکستان بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ امریکی قانون سازوں نے بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے افغان شہریوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔





