مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں
ریاست اور شہری کے درمیان رشتہ ایک سادہ سے وعدے پر کھڑا ہے۔ شہری قانون مانتا ہے، ٹیکس دیتا ہے اور اپنی طاقت ریاست کے حوالے کر دیتا ہے، اور بدلے میں اتنا چاہتا ہے کہ اس کی جان، مال اور عزت محفوظ رہے۔ اس وعدے کا سب سے نظر آنے والا چہرہ پولیس کی وردی ہے۔ مصیبت میں گھرا آدمی سب سے پہلے اسی وردی کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر سوات سے آنے والی خبر نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ مددگار یا مکار؟
خبر کے مطابق پشاور سے سوات آنے والے میاں بیوی کو دو پولیس اہلکار ہوٹل کے کمرے میں لے گئے اور وہاں خاتون کو باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے کسی کو بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔ ذرا سوچیے، ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ سیر کے لیے نکلا اور اسی کی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ اس کی عزت پامال کرتے رہے جن کا کام ہی اس کی حفاظت کرنا تھا۔ جب ڈاکو سامنے آئے تو انسان بھاگ کر پولیس کے پاس جاتا ہے، لیکن جب پولیس ہی ڈاکو بن جائے تو وہ بھاگ کر کہاں جائے؟
اس واقعے کا سب سے خوفناک پہلو جرم کی نوعیت کے ساتھ ساتھ مجرموں کی شناخت بھی ہے۔ عام مجرم سے بچنے کے لیے انسان کے پاس راستہ ہوتا ہے کہ وہ تھانے جائے، رپورٹ لکھوائے اور قانون سے مدد مانگے۔ لیکن جب قانون کا نمائندہ ہی ظلم کرے تو مظلوم کا آخری سہارا بھی چھن جاتا ہے۔ وہ شخص جسے تحفظ کی علامت سمجھا گیا تھا، اسی کی موجودگی سے خوف آنے لگتا ہے۔ اس سے بڑا المیہ کسی معاشرے کے لیے کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے شہری وردی دیکھ کر مطمئن ہونے کے بجائے ڈرنے لگیں؟
یہ درست ہے کہ سوات پولیس نے واقعے کا فوری نوٹس لیا، ڈی پی او کی ہدایت پر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور دونوں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔ یہ کارروائی قابلِ ذکر ہے اور اگر یہی تیزی انصاف کے ہر مرحلے پر نظر آئے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ لیکن گرفتاری کو اختتام سمجھ لینا بڑی بھول ہوگی۔ ہم نے کئی بار دیکھا ہے کہ ابتدا میں تیزی دکھائی جاتی ہے، پھر معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے، گواہ دباؤ میں آ جاتے ہیں اور مقدمات فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے، اور اس کی ضمانت صرف شفاف عدالتی کارروائی اور بروقت فیصلہ ہی دے سکتا ہے۔
ایسے واقعات کی جڑ تک جائیں تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ ایسے لوگ وردی تک پہنچے کیسے؟ بھرتی کے وقت کردار کی جانچ کتنی سنجیدگی سے ہوتی ہے؟ تربیت میں اخلاقیات اور شہری حقوق کا کتنا حصہ ہے؟ اور سب سے اہم، جب کسی اہلکار کے خلاف پہلے شکایات آئیں تو محکمہ کیا کرتا ہے؟ اگر ہر شکایت کو دبانے اور ہر غلطی پر پردہ ڈالنے کی روایت برقرار رہی تو پھر ایسے واقعات کو ہم “افسوسناک استثنا” نہیں کہہ سکیں گے، یہ ایک نظام کی ناکامی کا ثبوت ہوں گے۔
اس موقع پر یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ پولیس کے ہزاروں اہلکار روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرض نبھاتے ہیں، اور چند افراد کے جرم کی سزا پوری فورس کو نہیں ملنی چاہیے۔ مگر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ سخت سزا ملے جو وردی کی آڑ میں جرم کریں، کیونکہ ان کا جرم دوہرا ہے۔ ایک جرم اس مظلوم کے خلاف، اور دوسرا ان ہزاروں ایماندار اہلکاروں کے خلاف جن کی محنت پر ایسے لوگ سیاہی پھیر دیتے ہیں۔
آج ہر شہری کے ذہن میں یہی سوال گونج رہا ہے: مددگار یا مکار؟ اس سوال کا جواب بیانات سے نہیں بلکہ عمل سے دینا ہوگا۔ ملزمان کو شفاف مقدمے کے بعد قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے، متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف ملے، اور محکمے کے اندر ایسے عناصر کی نشاندہی اور احتساب کا ایسا نظام بنایا جائے جو واقعات کے بعد نہیں بلکہ ان سے پہلے حرکت میں آئے۔ اگر ریاست نے یہ کر دکھایا تو عوام کا ٹوٹا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، اور اگر نہیں، تو ہر نئے واقعے کے ساتھ یہ سوال اور گہرا ہوتا جائے گا کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو بھروسا آخر کس پر کیا جائے۔





