امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اس نتیجے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور جنگی فیصلوں پر سیاسی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی ایک بڑی وجہ ایران جنگ ہے۔
ایران جنگ وجہ قرار
خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی وجہ ایران جنگ بنی۔
صدر ٹرمپ نے بھی اس بات کو بڑی حد تک درست قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا، تاہم وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے دوبارہ بھی یہی فیصلہ کریں گے۔
ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق کانگریس کو جنگ کے اخراجات روکنے اور حکومتی فیصلوں پر نگرانی کا اختیار حاصل ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
نئی امریکی کانگریس 3 جنوری 2027 سے کام شروع کرے گی۔ اس کے بعد ڈیموکریٹس کو ایران جنگ کے لیے فنڈنگ، فوجی کارروائیوں کی اجازت اور دفاعی اخراجات سے متعلق فیصلوں میں اہم کردار مل جائے گا۔
ڈیموکریٹس یوکرین کے لیے امریکی امداد، اسرائیل کو فوجی تعاون اور ٹرمپ انتظامیہ کی نامزدگیوں پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ کانگریس ایران جنگ سے متعلق حکومتی فیصلوں کی تحقیقات اور نگرانی کے لیے بھی اپنے اختیارات استعمال کرسکتی ہے۔
ٹرمپ کا انکار
انتخابی شکست کے باوجود ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف میں تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی ترجیح ہے اور وہ اس مقصد کے لیے کیے گئے فیصلے کو دوبارہ بھی دہرائیں گے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ ٹرمپ بدستور امریکہ کے صدر ہیں۔





