آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ قطر کے شمالی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے امریکی شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق 4 نومبر کو قطر کے علاقے مدینۃ الشمال سے تقریباً 50 بحری میل شمال میں ایک ٹینکر کو دو نامعلوم میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی بحریہ نے بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک ٹینکر بحری سرنگ سے ٹکرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز کا نیوی گیشن نظام بند تھا اور وہ بغیر رابطے کے گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر رابطے کے گزرنے والے جہازوں کو خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے ہی ایرانی پاسداران انقلاب کے بحری سرنگوں سے متعلق دعووں کو مسترد کرچکی ہے۔
ایران کے خلاف کارروائی
پانچ نومبر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر فیصلہ جلد سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ ایران میں مزید تباہی سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف نئے حملوں، معاشی دباؤ اور کسی معاہدے کے امکانات پر غور کیا ہے۔ ان کے مطابق فیصلہ قومی سلامتی کے مشیروں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
قطر کی کوششیں
دوسری جانب قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرنے پر غور کرسکتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو ان تنصیبات تک رسائی دینے کی پیشکش کرسکتا ہے جنہیں حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس منصوبے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بعد ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر مذاکرات بھی شامل ہیں۔
تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پہلے تہران کی سات شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے بھی کہا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ مذاکرات ہوں گے۔





