بھارت نے مقامی طور پر تیار کردہ پرلے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے مطابق 5 نومبر کو کیے گئے تجربے کے دوران میزائل نے تمام مقررہ اہداف حاصل کیے، جس کے بعد اسے فوج میں شامل کرنے کا عمل قریب قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب بھارت اور فلپائن کے درمیان براہموس میزائلوں کی مزید فروخت کے لیے بھی بات چیت آخری مراحل میں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
تمام اہداف حاصل
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے 5 نومبر کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جزیرے سے پرلے میزائل کا تجربہ کیا۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مختلف آلات کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے تجربے کے تمام اہداف کی کامیابی کی تصدیق کی ہے۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تجربے کو مقامی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
اس منصوبے میں حیدرآباد کے ریسرچ سینٹر اماراتی (آر سی آئی) نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) اس کی پیداواری شراکت دار ہے۔
میزائل فروخت کرنے پر بات چیت
خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارت فلپائن کو براہموس میزائلوں کی مزید فروخت کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔
بھارتی ذرائع کے مطابق ممکنہ معاہدے میں تقریباً پانچ میزائل سسٹمز یا 60 میزائل شامل ہوسکتے ہیں۔ اس معاہدے کی ممکنہ مالیت 700 سے 800 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
فلپائن کی وزارت دفاع کے ترجمان آرسینیو اینڈولونگ کے مطابق صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے مزید براہموس میزائل حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
تاہم بھارتی وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور براہموس ایرو اسپیس نے اس ممکنہ معاہدے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
خلائی شعبے میں پیش رفت
بھارتی بحریہ کا جنگی جہاز آئی این ایس سہادری جاپان کی بندرگاہ یوکوسوکا پہنچ گیا ہے، جہاں وہ امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مشترکہ بحری مشق مالابار 2026 میں حصہ لے گا۔
اس کے علاوہ آئی این ایس ترکش نے ماریشس کے دورے کے دوران مشترکہ بحری سرگرمیوں اور سمندری حدود کی نگرانی میں حصہ لیا۔
بھارت نے حیدرآباد میں نجی خلائی مرکز کوسموسرو اسپیس بیس 1 بھی کھولا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خلائی ملبہ ہٹانے اور سیٹلائٹس کی مرمت و دیکھ بھال کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ بھارتی حکومت نے 2030 تک خلائی ملبے سے پاک ماحول کا ہدف بھی ظاہر کیا ہے۔





