قومی سلامتی جیسے حساس اور نازک موضوعات کو سیاسی جلسوں میں پوائنٹ اسکورنگ یا سستے تالیوں کے حصول کا ذریعہ بنانا نہ صرف ریاست کی رِٹ کو کمزور کرتا ہے بلکہ ان ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی لازوال قربانیوں کی توہین بھی ہے جو اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ملک کے دفاع میں مصروف ہیں۔ قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر لگنے والے عارضی حفاظتی اقدامات یا کرفیو کا مقصد کسی آبادی کو تنگ کرنا نہیں، بلکہ دہشت گردوں کے خطرناک عزائم، آئی ای ڈی حملوں اور لاجسٹک قافلوں کو محفوظ بنانا ہوتا ہے۔
دور دراز چوکیوں پر تعینات جوانوں کے لیے راشن، دواؤں اور اسلحے کی ترسیل کے حامل ٹرکوں کی نقل و حرکت کے لیے راستوں کو کلیئر کرنا ناگزیر ہوتا ہے، اور اس عمل کو طنز و مزاح کا نشانہ بنانا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب، اس بیانیے کا دوسرا رخ ملکی سیاسی ڈھانچے، دینی تعلیمات، مدارس اور اصل طاقت کے مراکز پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ نکتہ اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ مذہب، دینی مدارس اور قومی دھارے کی تعریف پر ریاست اور سیاستدانوں کے درمیان فکری اور عملی اختلاف پایا جاتا ہے۔ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے پایا جانے والا تضاد، عوام کی حقیقی زندگی اور اسمبلیوں کے ایوانوں کے درمیان خلیج، اور اقتدار کی اصل کمانڈ کے تعین کی بحث پاکستانی سیاسی تاریخ کا ایک دیرینہ باب ہے۔
جب سیاسی اور مذہبی رہنما ان بنیادی نظاموں پر سوال اٹھاتے ہیں، تو یہ اس بات کا غماز ہے کہ ریاست اور مذہب کے رشتے اور حکمرانی کے مروجہ طریقوں پر عوامی سطح پر کتنی گہری بے چینی پائی جاتی ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ایک طرف جہاں قومی سلامتی، ملکی دفاع اور سیکیورٹی فورسز کے مورچوں پر کسی قسم کا سیاسی سمجھوتہ یا طنز نہیں ہونا چاہیے، وہیں دوسری طرف ریاست کے اندرونی سیاسی نظام، قانون سازی، اور دینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے اٹھنے والے اصولی سوالات کو بھی سنجیدگی سے سننے کی ضرورت ہے۔
پائیدار امن اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب سیاست دان اور ریاستی ادارے قومی سلامتی کے نام پر یکسو ہوں اور عوامی حقوق، دینی تشخص اور شفاف جمہوریت کے معاملات پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔





