پشاور: خیبر پختونخوا کے نئے صوبائی سیٹ اَپ نے صوبے میں پولیس کی آپریشنل صلاحیتوں، جدید سامان کی فراہمی اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ فیصلے کے تحت کے پی پولیس کے سیکیورٹی چیلنج الاؤنس کو 30 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے، جس کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے کے اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
جدید خطوط پر فیلڈ آپریشنز کو منظم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے الگ سے 9 ارب روپے کے فنڈز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس رقم کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کو جدید تھرمل نائٹ ویژن، بلٹ پروف آلات، جدید گاڑیاں اور ضروری مواصلاتی ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی، تاکہ فرنٹ لائن فورس کو خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل مجهز کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا پولیس طویل عرصے سے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہر رینک کے اہلکاروں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران لازوال قربانیاں دی ہیں اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
دہشت گردوں کے براہِ راست نشانے پر ہونے کے باوجود فورس کا حوصلہ ہمیشہ بلند رہا ہے، لیکن ماضی کی حکومتوں کی جانب سے پولیس کی فلاح، آپریشنل ضروریات اور مالی مراعات پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا سکی تھی جس سے فیلڈ سطح پر درپیش چیلنجز میں اضافہ ہوا۔
موجودہ سیٹ اَپ کی جانب سے مالی مراعات میں اضافہ، جدید سازوسامان اور بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات فورس کے مورال کو بلند کرنے میں اہم ثابت ہوں گی۔ یہ تمام اقدامات اس عملی عزم کا اظہار ہیں کہ صوبائی پولیس کو ہر ممکن وسائل اور مضبوط تحفظ فراہم کر کے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے۔





