یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کی رپورٹ دیواروں کے پیچھے ایک اور نسل کشی اور اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کی پیش کردہ دستاویزات میں اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظم جنسی تشدد اور تذلیل کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 12 اپریل 2026 کو شائع ہونے والی یورو میڈ مانیٹر کی دستاویز میں رہائی پانے والے قیدیوں کی گواہیوں پر مبنی حقائق سامنے آئے ہیں، جن میں تفتیش کے دوران تربیت یافتہ کتوں کے استعمال اور شدید جسمانی تشدد کے الزامات شامل ہیں۔
رپورٹ میں 43 سالہ سابق قیدی وجدی اور 48 سالہ قیدی اے جے کی گواہیاں شامل کی گئی ہیں، جنہوں نے دورانِ تفتیش برہنہ کر کے دھاتی بستروں سے باندھنے، جنسی تشدد، اور سیکیورٹی کتوں کے ذریعے تذلیل کے واقعات بیان کیے۔ گواہیوں کے مطابق بعض قیدیوں کو تیز دھار سلاخوں اور آلات کے ذریعے اتنے شدید زخم پہنچائے گئے کہ ان کے اعضا کو سرجری کے ذریعے نکالنا پڑا اور وہ دائمی معذوری کا شکار ہو گئے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے مارچ 2026 میں انسانی حقوق کونسل کو اپنی رپورٹ ’’تشدد اور نسل کشی‘‘ پیش کی، جس میں 300 سے زائد گواہیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حراستی نظام کو منظم سفاکیت کی تجربہ گاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تذلیل اور تشدد کو اعلیٰ سیاسی سرپرستی حاصل ہے، جس میں وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کا ادارہ جاتی کردار نمایاں ہے۔ البانیز نے ان مظالم کی آئی سی سی سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکام نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے آزاد مبصرین کو حراستی مراکز تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔ مزید برآں، حراستی مرکز سدی تیمان میں فلسطینی قیدی پر جنسی تشدد کے الزام میں گرفتار یونٹ فورس 100 کے پانچ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مقدمہ مارچ 2026 میں ختم کر کے انہیں دوبارہ سروس میں بحال کر دیا گیا ہے، جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی نظامِ انصاف کے تضاد سے تعبیر کیا ہے۔





