ایک طرف خیبر پختونخوا کے اہم سیاسی رہنماؤں جن میں وزیراعلیٰ، اسپیکر، وزراء، ایم این ایز اور ایم پی ایز شامل ہیں۔۔۔۔ کی مبینہ گرفتاریوں اور ان کے قانونی حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین اور عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں عوام کے منتخب نمائندوں کے قانونی اسٹیٹس، گرفتاری کی وجوہات اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے حوالے سے شفافیت کا نہ ہونا آئینی و سیاسی بحران کو جنم دے رہا ہے۔
دوسری جانب، حکومتی اور قانونی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں، عدالتوں کے احکامات اور درج مقدمات کی روشنی میں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگی یا عہدہ کسی کو بھی آئین و قانون سے بالا تر نہیں بناتا۔
مزید برآں، صوبے میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور سیکیورٹی معاملات میں عدم تعاون کے باعث ہی آئینی اختیارات اور قانونی کارروائیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





