طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس دعوے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے افغانستان کو داعش کی موجودگی سے پاک قرار دیتے ہوئے تمام تر ذمے داری پاکستان پر عائد کی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان ایک ناکام اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے نظام کی پردہ پوشی کے سوا کچھ نہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانٹریٹنگ ٹیم کی مسلسل رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں داعش کے کم از کم دو ہزار جنگجو موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کنڑ، ننگرہار اور ہلمند کے اضلاع اب بھی اس تنظيم کے عملی مراکز بنے ہوئے ہیں۔
شام میں شکست کے بعد تجربہ کار جنگجوؤں نے افغانستان کا رخ کیا، جبکہ طالبان کے اپنے کئی ناراض جنگجو بھی داعش کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہی حقائق کی روشنی میں طالبان کی جانب سے حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان پر انگلیاں اٹھانا بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔





