ذییح اللہ مجاہد کا داعش کی موجودگی سے انکار حقائق سے متضاد قرار

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا افغانستان میں داعش کے نہ ہونے اور پاکستان پر الزام تراشی کا دعویٰ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
طالبان کا داعش کی موجودگی سے انکار حقائق سے متضاد قرار

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان پر شدّت سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی رپورٹس کے ذریعے افغانستان میں داعش کی موجودگی اور محفوظ ٹھکانوں کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔

November 8, 2026

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس دعوے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے افغانستان کو داعش کی موجودگی سے پاک قرار دیتے ہوئے تمام تر ذمے داری پاکستان پر عائد کی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان ایک ناکام اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے نظام کی پردہ پوشی کے سوا کچھ نہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانٹریٹنگ ٹیم کی مسلسل رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں داعش کے کم از کم دو ہزار جنگجو موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کنڑ، ننگرہار اور ہلمند کے اضلاع اب بھی اس تنظيم کے عملی مراکز بنے ہوئے ہیں۔

شام میں شکست کے بعد تجربہ کار جنگجوؤں نے افغانستان کا رخ کیا، جبکہ طالبان کے اپنے کئی ناراض جنگجو بھی داعش کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہی حقائق کی روشنی میں طالبان کی جانب سے حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان پر انگلیاں اٹھانا بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

طالبان چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے مخالف مسلح محاذوں کو غیر افغان اور پاکستان سے فنڈنگ حاصل کرنے والا قرار دے دیا، جس پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

November 8, 2026

اسرائیلی صدر نے سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کو نئی حکومت بنانے کے لیے 28 دن کی مہلت دے دی، نیتن یاہو اقتدار کی دوڑ میں سیاسی دباؤ کا شکار۔

November 8, 2026

ای سی سی کے اجلاس میں پاک فوج کے لیے لگژری جیٹ کی خریداری کی خبریں بے بنیاد ثابت؛ 1.094 ارب روپے پاک بحریہ کے ‘سی سلطان’ پراجیکٹ کے آپریشنل اخراجات کے لیے منظور کیے گئے تھے۔

November 8, 2026

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کی پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

November 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *