بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو پاکستان میں مطلوب یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف برطانوی عدالت میں ایک اور اہم کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق برطانیہ کی کورٹ آف اپیل نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے عادل راجہ کو اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی، جبکہ نئے شواہد پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
عدالتی فیصلے کے بعد یہ مقدمہ مکمل طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اس سے قبل ہائی کورٹ آف جسٹس کے جج رچرڈ اسپئیرمین کے سی نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے عادل راجہ کو عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ یہ معافی 28 دن تک ان کے ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک، یوٹیوب اور ذاتی ویب سائٹ پر نمایاں طور پر موجود رہے گی۔
عدالت نے عادل راجہ کو ہرجانے اور عدالتی اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 10 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا، جن میں 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ عدالتی اخراجات شامل ہیں، جبکہ اضافی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جانا تھا۔
عادل راجہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی درخواست دائر کی تھی، تاہم جج نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اب کورٹ آف اپیل کی جانب سے بھی اپیل کی اجازت نہ ملنے کے بعد کیس مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جسے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی قانونی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔