پاکستان کے معروف صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم ان دنوں اپنی متضاد پالیسیوں اور پیشہ ورانہ وابستگیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ابصار عالم نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حکومتی وزراء پر کرپشن اور ناقص گورننس کا لیبل لگاتے ہوئے سخت تنقید کی، تاہم ان کی یہ تنقید اس وقت تضاد کا شکار نظر آئی جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ وہ خود اسی نظام کا حصہ ہیں جس کی وہ مذمت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے ادارے سے وابستگی
دلچسپ امر یہ ہے کہ ابصار عالم اس وقت نجی ٹی وی چینل ‘سماء نیوز’ سے وابستہ ہیں، جس کی سربراہی موجودہ وفاقی وزیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ علیم خان کر رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک طرف ابصار عالم حکومتی وزراء کو کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ خود ایک طاقتور وفاقی وزیر کے زیرِ انتظام ادارے میں ملازمت کر کے مراعات حاصل کر رہے ہیں۔
علیم خان کی عملی کارکردگی کا موازنہ
تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ علیم خان نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کی کارکردگی کسی بیان بازی کے بجائے عملی نتائج سے واضح ہے۔ ایسے میں ابصار عالم کا ان کے ادارے سے تنخواہ لینا اور پھر اسی حکومت کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرنا، ان کے اپنے بیانیے کو کمزور کر دیتا ہے۔ جہاں حکومت کے دیگر شعبے مشکل معاشی حالات میں دن رات کام کر رہے ہیں، وہاں ابصار عالم کی یکطرفہ تنقید ایک واضح تضاد پیدا کرتی ہے۔
ملازمت کے تحفظ پر اٹھتے سوالات
عوامی سطح پر یہ ابہام بھی پایا جاتا ہے کہ اس قسم کی مسلسل الزام تراشی کے باوجود ابصار عالم کی ملازمت کیسے محفوظ ہے؟ مبصرین کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے یا تو کسی بااثر حلقے یعنی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے یا پھر کسی طاقتور حکومتی گروپ نے انہیں سہارا دے رکھا ہے۔ یہ صورتحال ابصار عالم کی اپنی پیشہ ورانہ ساکھ اور غیر جانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
اصول پسندی
حقیقت یہ ہے کہ ذاتی مفاد اور پیشہ ورانہ دیانت کے درمیان لکیر واضح ہونی چاہیے۔ اصول پسندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر کسی صحافی کو حکومتی پالیسیوں یا قیادت سے اتنا ہی شدید اختلاف ہو، تو اسے اخلاقی طور پر پہلے اس ادارے کو چھوڑنا چاہیے جس کا مالک خود حکومت کا حصہ ہے۔ جب تک وہ اسی نظام سے وابستہ رہ کر تنقید کرتے رہیں گے، اسے عوام کی جانب سے محض ایک ‘منافقانہ بیانیہ’ ہی تصور کیا جائے گا۔