اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش؛ برادر ممالک کی خودمختاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ۔

April 29, 2026

پہلگام سانحے کے ایک برس بعد حسن اسلم شاد کا تجزیہ بھارتی بیانیے کے تضادات اور بین الاقوامی قانون سے انحراف کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیا ایٹمی خطے میں مفروضے قانون کی جگہ لے سکتے ہیں؟

April 29, 2026

صحافی ابصار عالم کی جانب سے حکومتی وزراء پر کرپشن کے الزامات؛ وفاقی وزیر علیم خان کے ادارے ‘سماء نیوز’ سے وابستگی نے ان کے بیانیے میں تضاد واضح کر دیا۔

April 29, 2026

نمائندہ خصوصی محمد صادق کی روسی سفیر البرٹ پی کھوریف سے ملاقات؛ خطے کی حالیہ صورتحال اور سرحد پار دہشت گردی کے اثرات پر اہم تبادلہ خیال۔

April 29, 2026

جب دنیا اندھیروں کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان کی قیادت نے اپنی بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے عالمی شور کو خاموشی اور امن میں بدل دیا۔ فنکار نے اپنے الفاظ میں اس بات پر زور دیا کہ جب ہر طرف سے مذاکرات کے دروازے بند ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے امن کی شمع روشن کی۔

April 28, 2026

اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

April 28, 2026

متضاد بیانیہ: وفاقی وزیر کے ادارے سے مراعات حاصل کرنے کے باوجود حکومتی نظام پر تنقید؛ ابصار عالم کا دوہرا معیار بے نقاب

صحافی ابصار عالم کی جانب سے حکومتی وزراء پر کرپشن کے الزامات؛ وفاقی وزیر علیم خان کے ادارے ‘سماء نیوز’ سے وابستگی نے ان کے بیانیے میں تضاد واضح کر دیا۔
صحافی ابصار عالم کی جانب سے حکومتی وزراء پر کرپشن کے الزامات؛ وفاقی وزیر علیم خان کے ادارے 'سماء نیوز' سے وابستگی نے ان کے بیانیے میں تضاد واضح کر دیا۔

سماء نیوز سے وابستہ ابصار عالم کی حکومتی وزراء پر تنقید نے نئی بحث چھیڑ دی۔ وفاقی وزیر علیم خان کے زیرِ سایہ ملازمت اور حکومت مخالف بیانیے نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

April 29, 2026

پاکستان کے معروف صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم ان دنوں اپنی متضاد پالیسیوں اور پیشہ ورانہ وابستگیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ابصار عالم نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حکومتی وزراء پر کرپشن اور ناقص گورننس کا لیبل لگاتے ہوئے سخت تنقید کی، تاہم ان کی یہ تنقید اس وقت تضاد کا شکار نظر آئی جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ وہ خود اسی نظام کا حصہ ہیں جس کی وہ مذمت کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کے ادارے سے وابستگی

دلچسپ امر یہ ہے کہ ابصار عالم اس وقت نجی ٹی وی چینل ‘سماء نیوز’ سے وابستہ ہیں، جس کی سربراہی موجودہ وفاقی وزیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ علیم خان کر رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک طرف ابصار عالم حکومتی وزراء کو کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ خود ایک طاقتور وفاقی وزیر کے زیرِ انتظام ادارے میں ملازمت کر کے مراعات حاصل کر رہے ہیں۔

علیم خان کی عملی کارکردگی کا موازنہ

تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ علیم خان نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کی کارکردگی کسی بیان بازی کے بجائے عملی نتائج سے واضح ہے۔ ایسے میں ابصار عالم کا ان کے ادارے سے تنخواہ لینا اور پھر اسی حکومت کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرنا، ان کے اپنے بیانیے کو کمزور کر دیتا ہے۔ جہاں حکومت کے دیگر شعبے مشکل معاشی حالات میں دن رات کام کر رہے ہیں، وہاں ابصار عالم کی یکطرفہ تنقید ایک واضح تضاد پیدا کرتی ہے۔

ملازمت کے تحفظ پر اٹھتے سوالات

عوامی سطح پر یہ ابہام بھی پایا جاتا ہے کہ اس قسم کی مسلسل الزام تراشی کے باوجود ابصار عالم کی ملازمت کیسے محفوظ ہے؟ مبصرین کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے یا تو کسی بااثر حلقے یعنی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے یا پھر کسی طاقتور حکومتی گروپ نے انہیں سہارا دے رکھا ہے۔ یہ صورتحال ابصار عالم کی اپنی پیشہ ورانہ ساکھ اور غیر جانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

اصول پسندی

حقیقت یہ ہے کہ ذاتی مفاد اور پیشہ ورانہ دیانت کے درمیان لکیر واضح ہونی چاہیے۔ اصول پسندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر کسی صحافی کو حکومتی پالیسیوں یا قیادت سے اتنا ہی شدید اختلاف ہو، تو اسے اخلاقی طور پر پہلے اس ادارے کو چھوڑنا چاہیے جس کا مالک خود حکومت کا حصہ ہے۔ جب تک وہ اسی نظام سے وابستہ رہ کر تنقید کرتے رہیں گے، اسے عوام کی جانب سے محض ایک ‘منافقانہ بیانیہ’ ہی تصور کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش؛ برادر ممالک کی خودمختاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ۔

April 29, 2026

پہلگام سانحے کے ایک برس بعد حسن اسلم شاد کا تجزیہ بھارتی بیانیے کے تضادات اور بین الاقوامی قانون سے انحراف کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیا ایٹمی خطے میں مفروضے قانون کی جگہ لے سکتے ہیں؟

April 29, 2026

نمائندہ خصوصی محمد صادق کی روسی سفیر البرٹ پی کھوریف سے ملاقات؛ خطے کی حالیہ صورتحال اور سرحد پار دہشت گردی کے اثرات پر اہم تبادلہ خیال۔

April 29, 2026

جب دنیا اندھیروں کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان کی قیادت نے اپنی بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے عالمی شور کو خاموشی اور امن میں بدل دیا۔ فنکار نے اپنے الفاظ میں اس بات پر زور دیا کہ جب ہر طرف سے مذاکرات کے دروازے بند ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے امن کی شمع روشن کی۔

April 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *