جاوید ہاشمی کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان مبینہ رابطوں کے دعوؤں نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ سکیورٹی حلقوں نے ان الزامات کو ذہنی پسماندگی قرار دیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

February 11, 2026

امریکی سینیٹ نے افغانستان کو دی جانے والی امداد کی دہشت گردوں تک رسائی روکنے کے لیے نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ طالبان حکومت پر امدادی رقوم کی چوری اور شدت پسندوں کی مالی معاونت کے الزامات کے بعد یہ سخت ترین پالیسی اقدام سامنے آیا ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے

February 11, 2026

امریکی کمیشن نے افغانستان میں مذہبی آزادی کی منظم پامالیوں پر طالبان حکومت کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کر دی ہے

February 11, 2026

بنگلہ دیش میں 16 فروری کے انتخابات روایتی سیاسی جماعتوں سے عوامی بیزاری اور ایک بڑے نظریاتی خلا کا پتا دے رہے ہیں۔ عوامی لیگ اور بی این پی کی دہائیوں پر محیط کشمکش اور کرپشن کے الزامات نے ووٹرز کو متبادل کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، جہاں جماعت اسلامی کا ‘قربانی اور استقامت’ پر مبنی بیانیہ اب محض سرگوشی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے

February 11, 2026

شاندانہ گلزار کے متنازع بیانات اور صالح ظفر کے ساتھ حالیہ تلخی نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا؛ مبصرین کی جانب سے ریاست کو للکارنے، ‘بندوق اٹھانے’ کی دھمکیوں اور سنسنی خیزی پھیلانے پر سخت ردِعمل

February 11, 2026

امریکہ نے بلوچستان کے ریکوڈک منصوبہ کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے معدنیاتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عالمی سطح پر تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے

February 11, 2026

بھارت میں طالبان سفارتکار کی تعیناتی پر افغان کونسل کی شدید تنقید

افغان مزاحمتی کونسل نے بھارت کے فیصلے کی مذمت کی کہ طالبان کے سفارتکار نور احمد نور کو نئی دہلی میں افغان سفارتخانے کا سربراہ بنایا گیا، اسے جلدی بازی اور افغان عوام کی مرضی کے خلاف قرار دیا گیا
افغان مزاحمتی کونسل نے بھارت کے فیصلے کی مذمت کی کہ طالبان کے سفارتکار نور احمد نور کو نئی دہلی میں افغان سفارتخانے کا سربراہ بنایا گیا، اسے جلدی بازی اور افغان عوام کی مرضی کے خلاف قرار دیا گیا

افغان مزاحمتی کونسل نے بھارت سے کہا کہ وہ افغان عوام کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ ہی روابط رکھے اور بین الاقوامی برادری سے افغانستان میں محتاط رویہ اپنانے کا مطالبہ کیا

January 19, 2026

بھارت میں طالبان کے نامزد کردہ سفارتکار کو افغان سفارتخانے کا سربراہ تسلیم کرنے کے فیصلے پر افغان مزاحمتی قوتوں نے شدید تنقید کی ہے۔ ‘نیشنل ریزسٹنس کونسل فار دی سیلویشن آف افغانستان’ نے مذکورہ اقدام کو انتہائی جلدبازی اور افغانستان کے حقیقی صورت حال سے بے خبری قرار دیا ہے۔

افغانستان کی طالبان سیاسی کونسل، جو بیرون ملک مقیم اہم افغان شخصیات پر مشتمل ہے، نے بھارت کے فیصلے کو طالبان کے غیر آئینی حکومت کو غیر مستحکم تسلیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ طالبان بین الاقوامی برادری کی جانب سے غیر تسلیم شدہ ہیں، ان کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی کا تاریک ریکارڈ موجود ہے۔

کونسل نے خبردار کیا کہ طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توسیع خطے اور عالمی سطح پر “منفی اور ناقابل واپسی” سلامتی اور سماجی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اقدام افغان عوام کی مرضی کے برعکس ہے اور اس سے طویل المدت امن کے حصول کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان نے نور احمد نور کو نئی دہلی میں افغان سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز کے طور پر نامزد کیا ہے۔ یہ تعیناتی اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت نے کابل میں اپنی سفارتی مشن کی سطح کو بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق یہ اقدام طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بھارت دورے کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ان کے ساتھ سفارتی رابطوں کو بتدریج بڑھایا ہے۔

افغان مزاحمتی کونسل نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغان عوام کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ ہی تعاون و روابط رکھے۔ کونسل نے بین الاقوامی برادری سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے میں محتاط رویہ اپنائے اور بین الاقوامی قانون اور افغان عوام کی مرضی کو ترجیح دے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف بین الاقوامی ردعمل متنازع رہا ہے۔ متعدد ممالک طالبان کے ساتھ محدود سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن رسمی تسلیم کی شرطیں ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہیں۔

بھارت کا یہ اقدام خطے میں اس کی سفارتی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

دیکھیں: قطر نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں بحران کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے معتدل حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کر دیا

متعلقہ مضامین

جاوید ہاشمی کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان مبینہ رابطوں کے دعوؤں نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ سکیورٹی حلقوں نے ان الزامات کو ذہنی پسماندگی قرار دیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

February 11, 2026

امریکی سینیٹ نے افغانستان کو دی جانے والی امداد کی دہشت گردوں تک رسائی روکنے کے لیے نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ طالبان حکومت پر امدادی رقوم کی چوری اور شدت پسندوں کی مالی معاونت کے الزامات کے بعد یہ سخت ترین پالیسی اقدام سامنے آیا ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے

February 11, 2026

امریکی کمیشن نے افغانستان میں مذہبی آزادی کی منظم پامالیوں پر طالبان حکومت کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کر دی ہے

February 11, 2026

بنگلہ دیش میں 16 فروری کے انتخابات روایتی سیاسی جماعتوں سے عوامی بیزاری اور ایک بڑے نظریاتی خلا کا پتا دے رہے ہیں۔ عوامی لیگ اور بی این پی کی دہائیوں پر محیط کشمکش اور کرپشن کے الزامات نے ووٹرز کو متبادل کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، جہاں جماعت اسلامی کا ‘قربانی اور استقامت’ پر مبنی بیانیہ اب محض سرگوشی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے

February 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *