بھارت میں طالبان کے نامزد کردہ سفارتکار کو افغان سفارتخانے کا سربراہ تسلیم کرنے کے فیصلے پر افغان مزاحمتی قوتوں نے شدید تنقید کی ہے۔ ‘نیشنل ریزسٹنس کونسل فار دی سیلویشن آف افغانستان’ نے مذکورہ اقدام کو انتہائی جلدبازی اور افغانستان کے حقیقی صورت حال سے بے خبری قرار دیا ہے۔
افغانستان کی طالبان سیاسی کونسل، جو بیرون ملک مقیم اہم افغان شخصیات پر مشتمل ہے، نے بھارت کے فیصلے کو طالبان کے غیر آئینی حکومت کو غیر مستحکم تسلیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ طالبان بین الاقوامی برادری کی جانب سے غیر تسلیم شدہ ہیں، ان کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی کا تاریک ریکارڈ موجود ہے۔
کونسل نے خبردار کیا کہ طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توسیع خطے اور عالمی سطح پر “منفی اور ناقابل واپسی” سلامتی اور سماجی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اقدام افغان عوام کی مرضی کے برعکس ہے اور اس سے طویل المدت امن کے حصول کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان نے نور احمد نور کو نئی دہلی میں افغان سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز کے طور پر نامزد کیا ہے۔ یہ تعیناتی اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت نے کابل میں اپنی سفارتی مشن کی سطح کو بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق یہ اقدام طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بھارت دورے کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ان کے ساتھ سفارتی رابطوں کو بتدریج بڑھایا ہے۔
افغان مزاحمتی کونسل نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغان عوام کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ ہی تعاون و روابط رکھے۔ کونسل نے بین الاقوامی برادری سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے میں محتاط رویہ اپنائے اور بین الاقوامی قانون اور افغان عوام کی مرضی کو ترجیح دے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف بین الاقوامی ردعمل متنازع رہا ہے۔ متعدد ممالک طالبان کے ساتھ محدود سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن رسمی تسلیم کی شرطیں ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہیں۔
بھارت کا یہ اقدام خطے میں اس کی سفارتی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔