امریکہ میں مقیم افغان پناہ گزین جس نے ماضی میں افغان سرزمین پر امریکی مسلح افواج کے ساتھ بطور معاون کام کیا تھا، امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی ای سی) کی تحویل میں پراسرار طور پر انتقال کر گیا ہے۔ متوفی کی شناخت محمد نظیر پکتیوال کے نام سے ہوئی ہے، جن کی ہلاکت نے امریکا میں مقیم افغان تارکینِ وطن کے حقوق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق محمد نظیر پکتیوال اپنی اہلیہ اور چھ بچوں کے ساتھ ڈیلاس کے نواحی علاقے میں مقیم تھے اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواست تاحال امریکی حکام کے پاس زیرِ التواu تھی۔ سابق امریکی فوجیوں کی ایک وکالتی تنظیم افغان ایواک کے صدر شان وان ڈائیور نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پکتیوال کو جمعہ کی صبح اس وقت وفاقی اہلکاروں نے ان کے رہائشی اپارٹمنٹ کے باہر اس وقت گرفتار کیا جب وہ معمول کے مطابق اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے۔
گرفتاری کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت کے اندر ہفتہ کے روز یہ افسوسناک خبر سامنے آئی کہ پکتیوال آئی سی ای کی تحویل میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے ابھی تک ان کی موت کی حتمی وجہ ظاہر نہیں کی گئی ہے، جس کے باعث ان کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے افغان شہریوں کی امریکا منتقلی اور وہاں ان کی سکیورٹی اور قانونی حیثیت پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ افغان ایواک اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ محمد نظیر پکتیوال کی ہلاکت کی شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ حراست کے دوران ان کی صحت کے ساتھ کیا پیش آیا۔