نیویارک: اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیر احمد اندیشہ نے افغان طالبان کے حالیہ اقدامات اور امیر طالبان کے نئے حکم نامے پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں ملک کے سرکاری قوانین کا درجہ دینے کو سراسر ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ طالبان رجیم کو نہ تو عالمی برادری اور نہ ہی افغان عوام تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر اور مستقل نمائندے نصیر احمد اندیشہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ احکامات کو افغانستان کے سرکاری قوانین یا افغان عوام کی مرضی اور رائے کی نمائندگی کے طور پر ہرگز نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے غیور عوام طالبان رجیم کے ان فیصلوں کی تائید نہیں کرتے اور یہ پالیسیاں کسی بھی طرح عوامی خواہشات کی عکاس نہیں ہیں۔
افغان مندوب نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ افغانستان کے عوام نہ صرف طالبان کی ان سخت پالیسیوں سے شدید تنگ آ چکے ہیں، بلکہ اب ملک کے متعدد علاقوں میں اس رجیم اور ان کے فیصلوں کے خلاف کھل کر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جا رہا ہے، جو عوامی بے چینی کا واضح ثبوت ہے۔