بلوچستان کے کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کا دو افراد کو اغوا، ڈھائی کروڑ تاوان کا مطالبہ، جان سے مارنے کی دھمکی۔

July 26, 2026

فریڈم فرنٹ کا بغلان میں طالبان قافلے پر راکٹ حملہ، 7 اہلکار ہلاک، پنجشیر سے بھی مزاحمتی خبریں، بدخشاں میں طالبان کو بھاری نقصان کا دعویٰ۔

July 26, 2026

بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گرد ہلاک، متعدد کمین گاہیں تباہ۔

July 26, 2026

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تبادلے پر تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

July 26, 2026

ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ، امریکا کے ساتھ کشیدگی میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک۔

July 26, 2026

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال۔

July 26, 2026

ملالہ کا پاکستان کی افغانوں کی ملک واپسی کے دوران پناہ گزینوں کے حوالے سے تحفظات

افغانوں کی ملک واپسی کی پالیسی اور ملالہ یوسفزئی کی جانب سے تشویشات، جن میں پناہ گزینوں کے تحفظ اور عالمی سطح پر آبادکاری کے مواقع کو بڑھانے کی اپیل شامل ہے۔
Malala Yousafzai, at last year's Toronto International Film Festival. She recently spoke about Afghan refugee repatriation.

April 18, 2025

اسلام آباد – 18 اپریل 2025: نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے پاکستان کی افغانوں کی ملک واپسی کی پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبری ڈی پورٹیشن کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے طالبان کے حکمرانی میں افغان خواتین اور لڑکیوں کو درپیش خطرات پر زور دیا اور فوری عالمی انسانی ہمدردی کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ملالہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں کے لیے آبادکاری کے راستے وسیع کرے اور کمزور افغان مہاجرین کی مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ جبری ملک واپسی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ظلم یا صنفی تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان نے تاہم واضح کیا ہے کہ اس نے چالیس سال سے زائد عرصے میں چار ملین سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عالمی سطح پر سب سے طویل انسانی امدادی کوششوں میں سے ایک رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق، ملک واپسی کے فیصلے پاکستان کے خودمختار اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت قانونی حقوق کے مطابق ہیں۔ حکومت نے انسانی اور رضاکارانہ واپسی کے عمل پر زور دیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون ان افراد کی ملک واپسی کی اجازت دیتا ہے جنہیں کوئی ثابت شدہ خطرہ لاحق نہ ہو، حکام نے بتایا۔ اگرچہ پاکستان 1951 کے پناہ گزین کنونشن کا رکن نہیں ہے، تاہم اس نے انسانی طریقوں کو برقرار رکھنے کا عہد کیا ہے۔

ورلڈ بینک اور یو این ایچ سی آر کے اندازے کے مطابق، پناہ گزینوں کی میزبانی پر پاکستان کو سالانہ 200 ملین ڈالر سے زائد خرچ آتا ہے۔ یہ اخراجات خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عوامی خدمات پر بوجھ ڈالتے ہیں۔

حکام نے اطلاع دی کہ کچھ افغان شہری سمگلنگ اور عسکری سرگرمیوں میں ملوث تھے، جس سے قومی سلامتی کے خدشات پیدا ہوئے جو افغانوں کی ملک واپسی کی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مزید برآں، پشاور میں افغان قونصل جنرل کے ایک بیان میں تصدیق کی گئی کہ کمزور افراد کو جبری طور پر واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی معاونت مشن افغانستان (UNAMA) نے بھی نوٹ کیا کہ افغانستان کے کئی غیر متنازعہ علاقوں میں سیکورٹی بہتر ہوئی ہے، جس سے کچھ خاندانوں کے لیے واپسی محفوظ ہو گئی ہے۔

اگر ملالہ یوسفزئی کے پاس مخصوص خطرات کے شواہد ہیں تو حکام نے انہیں انسانی امدادی اداروں کے ساتھ تفصیلات شیئر کرنے کی ترغیب دی ہے۔

ڈسکلےمر: یہ خبری رپورٹ سرکاری بیانات، بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار اور ملالہ یوسفزئی کی عوامی گفتگو پر مبنی ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کا دو افراد کو اغوا، ڈھائی کروڑ تاوان کا مطالبہ، جان سے مارنے کی دھمکی۔

July 26, 2026

فریڈم فرنٹ کا بغلان میں طالبان قافلے پر راکٹ حملہ، 7 اہلکار ہلاک، پنجشیر سے بھی مزاحمتی خبریں، بدخشاں میں طالبان کو بھاری نقصان کا دعویٰ۔

July 26, 2026

بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گرد ہلاک، متعدد کمین گاہیں تباہ۔

July 26, 2026

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تبادلے پر تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

July 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *