افغان علماء کی تحقیقاتی کونسل کے اہم رکن شیخ الحدیث محمد عثمان طارق نے قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں ایک بڑا اور تاریخی شرعی موقف سامنے لاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ طالبان گروہ افغانستان کے عوام پر حکومت کرنے کا شرعی اور قانونی جواز کھو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رادار سیاسی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ جبر اور طاقت کے بل بوتے پر قائم نظام کو اسلامی یا شرعی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حاکم کی مشروعیت
شیخ الحدیث محمد عثمان طارق نے اپنے تفصیلی شرعی استدلال میں قرآنِ کریم کی صریح آیات، احادیثِ نبویؐ اور فقہ حنفی کے مسلمہ اصولوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اسلامی فقہ کی رو سے کسی بھی حکمران یا حکومت کے جائز ہونے کے لیے چند بنیادی شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
شیخ الحدیث محمد عثمان طارق، عضو مجمع تحقیقاتی علمای افغانستان، با استناد به نصوص صریح قرآن کریم، احادیث معتبر نبوی و مبانی فقه حنفی تأکید میکند که گروه طالبان از نگاه شرعی و نیز حقوقی، فاقد مشروعیت لازم برای حاکمیت بر مردم افغانستان هستند.
— رادار سیاسی (@PoliticalR0) June 10, 2026
به گفتهٔ او، در فقه اسلامی مشروعیت یک… pic.twitter.com/igIF7t2yO5
حاکم کو عوام اور اہلِ حل و عقد کی آزادانہ مرضی و بیعت حاصل ہو، حکومت عدل و انصاف فراہم کرے، اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سمیت عوامی مفادات کی پاسداری کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شرائط کی عدم موجودگی میں اقتدار صرف طاقت اور جبر کے زور پر برقرار رکھنا شرعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
مزاحمت کا جواز
شیخ الحدیث محمد عثمان طارق نے اپنے شرعی موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ فقہی اور اجتہادی نقطہِ نظر کے مطابق اگر کوئی حکومت اس انداز میں چلائی جائے جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہو، اور نظام کی اصلاح کے تمام پرامن راستوں کو مسدود کر دیا گیا ہو، تو ایسی حکومت کے خلاف شرعی حدود و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے مزاحمت کرنا مکمل طور پر جائز ہے۔
دیکھیے: ٹی ٹی پی ٹھکانوں پر خاموشی اور متنازع رپورٹنگ، یوناما پر طالبان نوازی کا الزام