طالبان دورِ حکومت میں ایک بار پھر انسانی حقوق سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ مختلف رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان اور خاتون کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے دیگر افراد کو خوفزدہ کرنے کے لیے پھیلایا گیا۔ تاہم اس ویڈیو اور واقعے کی آزاد ذرائع یا کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے چند روز قبل بھی افغانستان سے ایک ایسا ہی چشم کشا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، جس میں مبینہ طور پر ایک 63 سالہ بزرگ شخص کی 14 سالہ کم سن لڑکی کے ساتھ جبری شادی کرائی گئی تھی۔ بعد ازاں اسی لڑکی کو قتل کر دیا گیا، جس پر انسانی حقوق کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات طالبان دور میں خواتین اور کم سن بچیوں کے حقوق کی پامالی اور ان پر ہونے والے مظالم کے تسلسل کی ایک اور مثال ہیں، اور اس سلسلے میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب طالبان حکومت پہلے ہی خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق عالمی تنقید کی زد میں ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ اپنی مختلف رپورٹس میں افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور دیگر بنیادی حقوق پر عائد پابندیوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب طالبان حکام کی جانب سے ان واقعات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دیکھیے: نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا