بھارت میں پیپر لیک کے خلاف طلبہ کا احتجاج اب دارالحکومت دہلی کی حدود سے نکل کر ملک کے کئی بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ اور چندی گڑھ سمیت متعدد شہروں میں طلبہ تنظیموں نے احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ ان شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور مختلف مقامات پر دھرنے بھی دیے گئے، جن میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ملک کے امتحانی نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ پیپر لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے، اور امتحانی عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔
مختلف شہروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیمیں مسلسل رابطے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں احتجاج کو مزید منظم انداز میں پھیلانے کا عندیہ بھی دے رہی ہیں۔ ملک بھر میں پھیلتی اس تحریک نے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
دوسری جانب شدید بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر دہلی یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک سرکاری ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں طلبہ کو جنتر منتر پر غیر قانونی اجتماعات سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ان سرگرمیوں میں شرکت طلبہ کی سلامتی اور تعلیمی مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے، لہٰذا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دیکھیے: کاکروچ پارٹی کا احتجاج؛ نئی دہلی میں پولیس تشدد سے بھارتی نظامِ تعلیم پر سوالیہ نشان