لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا

نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج ممبئی، کولکاتا اور بنگلورو سمیت ملک بھر میں پھیل گیا ہے، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر پر مظاہروں سے روک دیا ہے۔
نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج دہلی سے نکل کر بھارت بھر میں پھیل گیا

بھارت میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کا احتجاج دہلی سے نکل کر ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد سمیت کئی شہروں تک پھیل گیا، مظاہرین کا امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ۔

July 24, 2026

بھارت میں پیپر لیک کے خلاف طلبہ کا احتجاج اب دارالحکومت دہلی کی حدود سے نکل کر ملک کے کئی بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ اور چندی گڑھ سمیت متعدد شہروں میں طلبہ تنظیموں نے احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ ان شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور مختلف مقامات پر دھرنے بھی دیے گئے، جن میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ملک کے امتحانی نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ پیپر لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے، اور امتحانی عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔

مختلف شہروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیمیں مسلسل رابطے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں احتجاج کو مزید منظم انداز میں پھیلانے کا عندیہ بھی دے رہی ہیں۔ ملک بھر میں پھیلتی اس تحریک نے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

دوسری جانب شدید بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر دہلی یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک سرکاری ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں طلبہ کو جنتر منتر پر غیر قانونی اجتماعات سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق ان سرگرمیوں میں شرکت طلبہ کی سلامتی اور تعلیمی مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے، لہٰذا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دیکھیے: کاکروچ پارٹی کا احتجاج؛ نئی دہلی میں پولیس تشدد سے بھارتی نظامِ تعلیم پر سوالیہ نشان

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *