ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کے دائرہ کار میں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ترک صدر نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی اہمیت پر زور دیا۔
اردوان نے کہا کہ ترکیہ آزاد فلسطین کی آواز بنتا رہے گا۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ ہمارے دور کا سب سے غیر انسانی اور شرمناک حراستی کیمپ بن چکا ہے۔ ترک صدر نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کو مقدس مقامات تک رسائی سے روکے جانے کا بھی ذکر کیا۔
ترک صدر کے مطابق فلسطینی مزاحمت نے امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل غزہ سے قبضہ ختم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
دفاعی تعاون
رجب طیب اردوان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی اتحاد کا مقصد باہمی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کے مسائل کا حل خطے کے اندر تلاش کرنا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ آزاد فلسطین کے قیام کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
دیکھیے: افغانستان سے دہشت گردی اور ٹی ٹی پی پر خاموشی؟ یوناما پر پاکستان کے شدید تحفظات