پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی رابطہ گروپ برائے افغانستان سے خطاب کیا ہے۔
انہوں نے افغانستان میں بیس سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی۔ ان گروہوں میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم شامل ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار سرحد پار دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے باجوڑ مسجد دھماکے کا حوالہ دیا جس میں 24 افراد شہید ہوئے۔
انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرے۔ طالبان کالعدم تنظیموں کی سرپرستی بند کریں اور اپنی سرزمین کے غلط استعمال کو روکیں۔
نائب وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ مستحکم اور پُرامن افغانستان کی حمایت کی ہے۔ تاہم طالبان حکومت انسدادِ دہشت گردی، شمولیت اور انسانی حقوق سے متعلق وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے غیر قانونی اسلحے، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کی فوری روک تھام پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ محض لڑائی کا خاتمہ افغانستان میں امن کی ضمانت نہیں۔ پائیدار استحکام کے لیے تمام نسلی گروہوں اور اقلیتوں پر مشتمل جامع سیاسی نظام ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کابل کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے باہمی احترام، اخلاص اور پختہ سیاسی عزم درکار ہے۔
انہوں نے او آئی سی کی جولائی 2026 کی وزارتی کانفرنس کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے افغان خواتین کے روزگار اور لڑکیوں کی تعلیم پر جاری پابندیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔
اسحاق ڈار نے خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے اور بنیادی آزادیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
آخر میں انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو انسانی اور ترقیاتی امداد فراہم کرے۔ اس کے علاوہ واپس آنے والے افغان باشندوں کی آبادکاری اور بحالی کی ذمہ داری بھی بانٹی جائے۔
دیکھیے: مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے: ترک صدر