افغانستان کے صوبے غور کے مرکزی شہر چوکِ سرِ پل میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں طالبان کے 4 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ حملہ سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد کے ذریعے طالبان اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ دھماکے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ زخمیوں کو قریب واقع ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
طالبان مخالف مسلح مزاحمتی گروہ افغانستان یونائٹڈ فرنٹ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے باوجود ملک بھر میں سکیورٹی کی صورت حال اب بھی تشویشناک ہے۔ طالبان حکام جو ملک میں کامل امن و امان کا دعویٰ کرتے ہیں، اب خود اپنے ہی دورِ اقتدار میں شدید سکیورٹی چیلنجز اور اندرونی حملوں کی زد میں ہیں۔
حالیہ عرصے میں طالبان مخالف گروہوں کی جانب سے کارروائیوں میں اضافے نے یہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا طالبان انتظامیہ اپنے ہی اہلکاروں اور علاقوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔