افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف سرگرم مسلح مزاحمتی گروہوں نے اپنی عسکری سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملک کے مختلف صوبوں میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ تین سے چھ اکتوبر کے دوران قندھار، ہلمند، بدخشان، ننگرہار اور بامیان میں کیے گئے پے در پے حملوں کے دوران کم از کم دس طالبان اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے۔ مزاحمتی تنظیموں کے مطابق، ان کارروائیوں میں عام اہلکاروں کے بجائے عسکری کمانڈرز، انٹیلی جنس افسران اور سخت گیر احکامات نافذ کرنے والے اہلکاروں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔
قندھار اور ہلمند میں سکیورٹی چیلنج طالبان کے سیاسی اور نظریاتی مرکز سمجھے جانے والے صوبے قندھار میں سکیورٹی کی صورتحال خاصی کشیدہ رہی۔ چھ اکتوبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے ارغنداب کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے طالبان کے طیب نیٹ ورک کے کمانڈر عزت اللہ اور ایک انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنایا۔
اس سے محض ایک روز قبل اسی گروہ نے عام شہریوں پر ضوابط نافذ کرنے والے امر بالمعروف کے اہلکار عبدالرحمان پر حملہ کیا، جبکہ پڑوسی صوبے ہلمند میں پانچ اکتوبر کو ایک جیل پر دستی بموں سے حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا گیا۔ اس سے قبل لشکر گاہ میں ہونے والے دو مختلف حملوں میں مزید ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔
انٹیلی جنس ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان مزاحمتی گروہوں نے طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے اور تفتیشی نظام کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔ صوبہ بدخشان کے مرکز فیض آباد میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی جانب سے کیے گئے حملے میں نائب انٹیلی جنس سربراہ صفی اللہ متوکل اپنے دو محافظوں سمیت مارا گیا۔ اسی نوعیت کی ایک اور کارروائی جلال آباد میں کی گئی، جہاں نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے ننگرہار سینٹرل جیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر تحقیقات وحید وصال کو نشانہ بنایا۔
قدرتی وسائل کی نقل و حمل پر حملے وسطی صوبے بامیان میں مزاحمتی محاذ نے طالبان کے معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ افغان ریپبلک فرنٹ نے چار اور پانچ اکتوبر کو معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کے قافلوں پر حملے کیے۔ تنظیم نے ملک کے قدرتی وسائل کے غیر قانونی استخراج اور استحصال کے خلاف اپنا سخت مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ معدنیاتی ترسیل کے خلاف یہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
طالبان کے دعوؤں پر اٹھتے سوالات جنوبی صوبے قندھار سے لے کر شمالی بدخشان اور بامیان تک حملوں کے اس تسلسل نے طالبان کے ملک پر مکمل کنٹرول اور مضبوط امن و امان کے دعوؤں کو شدید چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ مختلف جغرافیائی محاذوں پر بیک وقت منظم حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ طالبان کے خلاف مخالفت اب مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے مضبوط ترین گڑھوں میں بھی سکیورٹی کی خامیاں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ