افغانستان کے صوبوں پنجشیر اور بغلان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں تیز رفتاری دیکھی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مختلف حملوں میں طالبان کے 4 اہلکار ہلاک اور دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
پنجشیر میں گرین موومنٹ کے جنگجوؤں نے طالبان کے خلاف کارروائی کی جس کے نتیجے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ افغانستان میں طالبان کے مکمل کنٹرول کے دعوؤں کے باوجود جاری مسلح مزاحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
🚨 Panjshir: Green Movement Fighters Kill Three Taliban Militiamen
— Kabul Point English (@Kabulpoint) October 13, 2026
Three members of the Taliban's occupation militia have reportedly been killed by Green Movement fighters in Panjshir province, highlighting the continuing armed resistance against Taliban rule.
Despite the… pic.twitter.com/lHjRGEXHua
دوسری جانب، نیشنل رزسٹنس فرنٹ نے صوبہ بغلان کے ضلع جلگہ میں فیلڈ آپریشن کیا ہے۔ گزشتہ رات 8:30 بجے طالبان کے ٹھکانے پر کیے گئے اس حملے میں 1 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔
نیشنل رزسٹنس فرنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ عوام اور ملک کو طالبان کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام جنگجو کارروائی کے بعد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
افغانستان میں سال 2026 کے دوران طالبان کے خلاف مسلح مخالفت کے دائرہ کار، تنوع اور رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدا میں محدود رہنے والی یہ مزاحمت اب ملک کے تمام اہم صوبوں تک پھیل چکی ہے۔
اس وقت نیشنل رزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اہم مزاحمتی گروپس کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سابق نائب صدر امراللہ صالح اور جنرل سمیع سادات جیسے اہم رہنما بھی ان تحاریک کی قیادت کر رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں کے دوران افغانستان کے 26 صوبوں میں 100 سے زائد حملے رپورٹ کیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مرکز بدخشاں، بغلان، پنجشیر، نورستان اور کابل سمیت شمالی اور جنوبی صوبے ہیں۔





