امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم میں غیر معمولی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چند دیگر ممالک نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے امریکہ سے خصوصی درخواست کی تھی۔ اس سفارتی اپیل اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک ’مکمل اور حتمی معاہدے‘ کی جانب ہونے والی نمایاں پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکی انتظامیہ نے اپنی مخصوص عسکری سرگرمیوں میں وقفہ لانے پر اتفاق کیا ہے۔
🚨🚨🚨Trump: Based on the request of Pakistan and other Countries, the tremendous Military Success that we have had during the Campaign against the Country of Iran and, additionally, the fact that Great Progress has been made toward a Complete and Final Agreement with…
— Barak Ravid (@BarakRavid) May 5, 2026
پروجیکٹ فریڈم کی معطلی
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے شروع کی گئی مہم، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، اسے ایک مختصر مدت کے لیے معطل کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد یہ پرکھنا ہے کہ آیا فریقین کسی حتمی معاہدے پر دستخط کرنے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تنبیہ کی کہ ایران پر عائد کی گئی بحری ناکہ بندی اپنی پوری قوت کے ساتھ نافذ العمل رہے گی اور اس میں فی الحال کوئی رعایت نہیں دی جا رہی۔
فوجی مہم میں کامیابی کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کی فوجی مہم کو ’شاندار کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی دباؤ اور عسکری برتری کے باعث ہی ایران کے ساتھ حتمی تصفیے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ان کے بقول، یہ پیش رفت تہران کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور حتمی دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
علاقائی اثرات اور مستقبل
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے بیان میں پاکستان کی درخواست کا تذکرہ خطے میں اسلام آباد کے کلیدی سفارتی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی عارضی معطلی کو عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتائج کا انحصار آنے والے دنوں میں ہونے والے ممکنہ حتمی معاہدے پر ہوگا۔