امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے ایبٹ آباد کمپاؤنڈ کی ایک اینٹ کو اپنے میوزیم کا ہفتے کا شاہکار قرار دینے والی سوشل میڈیا پوسٹ پاکستانی صارفین کے غصے اور تمسخر کا نشانہ بن گئی ہے۔ اس اقدام کو پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی سے جڑے ایک حساس واقعے کی تضحیک قرار دیتے ہوئے صارفین نے ایجنسی کے خلاف ایک وسیع طنزیہ مہم شروع کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سی آئی اے نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر اسامہ بن لادن کی سابقہ پناہ گاہ ایبٹ آباد کمپاؤنڈ سے حاصل کردہ ایک اینٹ کی تصویر شیئر کی تھی۔
Artifact of the Week: Brick from Abbottabad Compound.
— CIA (@CIA) May 5, 2026
Learn more: https://t.co/VcWYYuyEKx pic.twitter.com/vOLIHZuYRk
اس کے جواب میں پاکستانی صارفین نے سی آئی اے کے اپنے ہی مخصوص گرافک فارمیٹ کو استعمال کرتے ہوئے جوابی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان جوابی پوسٹس میں سی آئی اے کی ماضی کی انٹیلی جنس ناکامیوں، ڈرون حملوں کے باقیات، جعلی پاسپورٹس اور جاسوسی کے آلات کو ‘حقیقی نوادرات’ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان میمز اور تصاویر میں صارفین نے سی آئی اے کو یاد دلایا ہے کہ اگر ایک اینٹ شاہکار ہو سکتی ہے تو ایجنسی کی وہ تمام ناکامیاں بھی تاریخی اثاثہ ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو متاثر کیا۔
مہم میں خاص طور پر ان اشیاء کو نشانہ بنایا گیا ہے جو سی آئی اے کے متنازع آپریشنز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔






تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی صارفین کا یہ شدید ردعمل محض اتفاقیہ نہیں بلکہ اس عوامی غصے کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی پالیسیوں اور پاکستان کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ صارفین نے سی آئی اے کے اس اقدام کو غیر حساس قرار دیتے ہوئے اسے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس مہم نے دیکھتے ہی دیکھتے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں لاکھوں صارفین سی آئی اے کے دوہرے معیار اور غیر پیشہ ورانہ سوشل میڈیا حکمت عملی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی اس تخلیقی اور طنزیہ مہم نے ثابت کر دیا ہے کہ حساس قومی اور عالمی واقعات کو ہلکا لینے کی صورت میں ایجنسیوں کو عوامی سطح پر شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔