افغانستان کے سابق نائب صدر اور جنبشِ ملی کے سربراہ مارشل عبدالرشید دوستم نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئی سیاسی و عسکری حکمتِ عملی تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ویڈیو بیان میں مارشل دوستم نے اندراب اور پنجشیر کے نوجوانوں کی ہمت کو سراہتے ہوئے انہیں اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حاجی صاحب احمد (احمد مسعود) اور دیگر اہم رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ تیار کر رہے ہیں، جس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال دشمن کے حق میں ثابت نہیں ہوگی اور جلد ہی مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔
طالبان رہنماء پر تنقید
عبدالرشید دوستم نے اپنے خطاب میں طالبان رہنماء ملا فضل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بدقسمت قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملا فضل نے عوام کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور ایک ایسا وقت آئے گا جب انہیں شمالی افغانستان کے عوام کے حوالے کر دیا جائے گا۔
آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات
مارشل دوستم نے خطے میں ہونے والی مبینہ تبدیلیوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلخ، تاشقرغان اور دیگر شمالی علاقوں میں لاکھوں بے نام مہاجرین کو بسانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تاجک، ہزارہ، ایماق، ترکمان اور ازبک بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری تاریخ، ثقافت اور زبان ختم ہو جائے گی، اس سے پہلے کہ تم برباد ہو جاؤ، تمہیں اس تباہی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔
نسلی تعصب کی نفی
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی قوم کے دشمن نہیں ہیں اور پشتونوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے حامد کرزئی اور اشرف غنی کو صدر بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا، تاہم وہ موجودہ حکمرانوں کی نیتوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
حکمتِ عملی کی تیاری
بیان میں انہوں نے اشارہ دیا کہ یونس قانونی اور دیگر سیاسی رفقاء اپنی حکمتِ عملی مرتب مکمل کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ ویڈیو بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی افغانستان میں مزاحمتی تحریکوں کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔