وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا کی بے مثال قربانی کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا اخلاق اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے چند گزارشات سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا جیسے انہوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر شہدا کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کر کے پیش کیا، جس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی جوان اور افسران محض ملازمت نہیں کرتے بلکہ جان ہتھیلی پر رکھ کر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
مولانا صاحب!
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) July 13, 2026
آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا۔ اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں…
وفاقی وزیر نے قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہوئے زور دیا کہ شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ عسکری خدمات کا معاوضہ ہو سکتی ہے لیکن اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی کوئی مالی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ آج مساجد، مدارس اور جلسوں کا امن انہی سرحدوں پر کھڑے سپاہیوں کی بدولت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے لیکن شہدا کے مقام و مرتبے پر گفتگو کرتے ہوئے ایسے الفاظ سے گریز کرنا چاہیے جو ان کے پسماندگان اور پوری قوم کی دل آزاری کا سبب بنیں۔ احسن اقبال نے اپیل کی کہ شہدا کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھا جائے۔