ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں اور دارالحکومت تہران کے امام خمینی حسینیہ سینٹر میں ان کا جسدِ خاکی عوام، قومی رہنماؤں اور غیر ملکی معزز شخصیات کے آخری دیدار کے لیے رکھ دیا گیا ہے، جہاں انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
لاکھوں افراد کی شرکت کے پیشِ نظر تہران کے مصلیٰ الکبیر اور دیگر اہم مقامات پر سکیورٹی کے غیر معمولی اور انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ انقلاب اسکوائر میں آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب علامتی مٹھی بھی نصب کر دی گئی ہے۔
ایرانی صدر کا پیغام
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات نے عالم کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے، تاہم یہ سرخ سفر کا اختتام نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
انہوں نے عوام سے آخری رسومات میں بھرپور شرکت کے ذریعے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب، بھارتی نمائندہ خصوص نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔
شہباز شریف ایران روانہ
آخری رسومات میں شرکت کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم، وفاقی کابینہ کے ارکان اور ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہوگا جو ایرانی قیادت سے ملاقات کر کے پاکستان کی تعزیت، ہمدردی اور دوطرفہ تعاون کے عزم کا اعادہ کرے گا۔
پاکستان کا ایک اعلیٰ وفد چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں پہلے ہی تہران پہنچ چکا ہے، جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں، جہاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔
آخری رسومات
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کل تہران میں ادا کی جائے گی، جس میں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں سمیت ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد جسدِ خاکی کو تہران سے قم، پھر عراق میں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد دوبارہ ایران لا کر مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایران کی وارننگ
موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر ایران کے خاتم الانبیاء بریگیڈ نے ایک کھلا اور سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آخری رسومات یا نمازِ جنازہ کے دوران اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی، تو ایران اس کا انتہائی ہولناک اور سخت جواب دے گا۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مخالفین کسی بھی مہم جوئی سے قبل اس کے سنگین نتائج پر غور کر لیں، کیونکہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مقدس شخصیات کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
دیکھیے: ایران میں طاقت کا محور تبدیل، اقتدار مذہبی قیادت سے پاسدارانِ انقلاب کی جانب منتقل: رائٹرز