امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ آج سے ایران کے خلاف اقتصادی ڈی ڈے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ان کے بقول یہ اب تک کسی بھی مخالف ملک کے خلاف امریکا کی سب سے بڑی مالی کارروائی ہے۔
بیسنٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور تقریباً سو فیصد فوجی فیکٹریاں ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام بھی دفن کیا جا چکا ہے اور امریکا اب فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو سہارا دینے والی تمام معاشی زندگی کی رگیں کاٹنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ اعلان صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے تہران کو مالی مدد دینے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی وارننگ دی تھی۔
جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ان کے مطابق سب سے مؤثر حکمتِ عملی یہ ہے کہ ایران کو تیل و گیس کی تجارت روکنے کی قیمت چکانے پر مجبور کیا جائے، کیونکہ تہران کے پاس بین الاقوامی تجارتی راستے مکمل بند کرنے کی صلاحیت نہیں۔ وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے یومیہ 7 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل جاری رکھنے میں کامیاب ہے۔
آبنائے ہرمز
ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی نے وارننگ دی کہ اگر ٹرمپ کی معاشی جنگ جاری رہی تو ایران خلیج سے تیل کی تمام برآمدات بند کر دے گا۔ ان کے بقول جو ملک بھی امریکی پابندیوں کا ساتھ دے گا، تہران اسے جنگی اقدام تصور کرے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیوں کی توقع ہے۔ اسی دوران عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر البوسعیدی منگل کو تہران کا دورہ کریں گے۔ ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی نے ایک مسودہ قانون بھی منظور کیا ہے جس کے تحت پابندیوں کی حمایت کرنے والے ممالک کے بحری جہازوں کو تہران کی خدمات محدود کی جا سکتی ہیں۔