مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کے کلیدی مصالحتی کردار کو سبوتاژ کرنے کے لیے صیہونی لابی کے آلہ کار متحرک ہو گئے ہیں۔ امجد طہٰ نامی شخص، جو کہ ایک معروف صیہونی ہمدرد کے طور پر پہچانا جاتا ہے، ان چند غیر اسرائیلی افراد میں شامل ہے جو خطے میں جنگ بندی اور تناؤ میں کمی کی ہر کوشش کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جب پوری دنیا امن کی بات کر رہی ہے، امجد طہٰ جیسے عناصر جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا دینے میں مصروف ہیں تاکہ صیہونی ایجنڈے کو تقویت مل سکے۔
For the third time, Pakistan failed. Islamabad is no place for talks. It has never been neutral and has far too much in common with the Islamic regime in Iran. The Arab lobby delivered. Thank you, Trump, for canceling Witkoff and Kushner. You saw the regime’s weakness when it…
— Amjad Taha أمجد طه (@amjadt25) April 25, 2026
حقیقت یہ ہے کہ جنگ صرف ان انتہاپسند صیہونیوں کے مفاد میں ہے جو “گریٹر اسرائیل” کے نام نہاد خواب کی تکمیل کے لیے مستقل انتشار چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس جنگ کا ایک بڑا مقصد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات اور عدالتی کارروائیوں سے بچانا ہے، جس کے لیے معصوم انسانی جانوں کا زیاں کیا جا رہا ہے۔ امجد طہٰ کا حالیہ بیان دراصل اسی مایوسی کا عکاس ہے جو سفارت کاری کی کامیابی اور جنگ کے بادل چھٹنے کی صورت میں صیہونی حلقوں میں پھیل رہی ہے۔
دوسروں کو غیر جانبداری کا درس دینے والوں سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کس کے مفادات کی ترجمانی کر رہے ہیں؟ پاکستان پر تنقید کرنے والے یہ وہی عناصر ہیں جو ہر اس پلیٹ فارم کی مخالفت کرتے ہیں جہاں امن اور مذاکرات کی بات ہو۔ آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو سفارت کاری کی کامیابی سے خوفزدہ ہیں؟ جواب واضح ہے کہ جو لوگ امن کے بجائے دائمی تنازع سے منافع کماتے ہیں، وہی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر حملہ آور ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کون چاہتا ہے اور کون مسلسل جنگ سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ جب آپ ایجنڈے، اتحادوں اور مخصوص حلقوں کی جانب سے ملنے والی داد و تحسین کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر بالکل صاف ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن اور مکالمے کی حمایت کی ہے، جبکہ امجد طہٰ جیسے کرائے کے پروپیگنڈا کرنے والے صرف انارکی اور خون خرابے کے علمبردار ہیں تاکہ اپنے آقاؤں کے سیاسی مقاصد پورے کر سکیں۔