اداکارہ کے مطابق ریہرسل کے دوران انہیں ایک مخصوص لباس پہننے کا کہا گیا جو گلیمرس انداز کا تھا، تاہم انہوں نے پہلی شرط رکھتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے کلچر کے مطابق شلوار قمیض اور دوپٹہ ہی پہنیں گی۔ ریما نے کہا کہ جب ہم اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں تو ثقافت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

April 19, 2026

کراچی کی جانب سے ریزا ہینڈرکس 49 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ عباس آفریدی نے 34 اور معین علی نے 27 رنز اسکور کیے۔

April 19, 2026

تاجک سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ کارروائی سرحدی نگرانی کے معمول کے عمل کا حصہ تھی، جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کی جانب سے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

April 19, 2026

وائرل ویڈیو میں مذکورہ شخص ننگرہار میں ایک سکیورٹی چوکی کے سامنے کھڑے ہو کر علاقے کی صورتحال دکھاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ویڈیو میں وہ افغانستان میں غربت، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے طالبان حکومت کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

April 19, 2026

ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔

April 19, 2026

مظفرآباد میں ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر حکومت عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل نہ کرتی تو نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے، تاہم قلیل وقت اور دباؤ کے باوجود عوام میں امید پیدا کرنا ایک اہم پیشرفت ہے۔

April 19, 2026

صیہونی ایجنٹ امجد طہٰ کا ایران مخالف زہریلا پروپیگنڈا: پاک بحریہ کے جہاز کی آزادانہ نقل و حرکت کو ‘سمندری دہشت گردی’ قرار دے دیا

پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔
صیہونی ایجنٹ امجد طہ

جنگی حالات میں ممالک مختلف ریاستوں اور جہازوں کے لیے الگ سکیورٹی پروٹوکول اختیار کرتے ہیں، جو بین الاقوامی تنازعات میں ایک معمول کی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔

April 19, 2026

دبئی/اسلام آباد: سوشل میڈیا پر سرگرم تجزیہ کار امجد طہٰ کے ایران سے متعلق حالیہ بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں ماہرین اور مبصرین نے ان کے الزامات کو یکطرفہ اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے خطے کی اصل صورتحال کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امجد طہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایران نے پاکستانی جہاز کو آزادانہ گزرنے دیا جبکہ بھارتی جہاز پر کارروائی کی، یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی ہے”، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان زمینی حقائق اور جاری جنگی صورتحال کے تناظر کے بغیر دیا گیا ہے۔

دفاعی و سفارتی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت ایک فعال تنازع کا علاقہ ہے جہاں امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور ایران کی جوابی پابندیوں کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت سخت کنٹرول میں ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے تک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت پر سخت نگرانی رکھے گا اور صرف ان جہازوں کو اجازت دی جائے گی جو اس کے مقرر کردہ قواعد پر پورا اتریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں ممالک مختلف ریاستوں اور جہازوں کے لیے الگ سکیورٹی پروٹوکول اختیار کرتے ہیں، جو بین الاقوامی تنازعات میں ایک معمول کی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے مختلف جہازوں کے ساتھ مختلف برتاؤ کو عمومی پالیسی یا “امتیازی سلوک” قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی جہاز اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرے جب ایران نے جنگ بندی کے دوران محدود طور پر تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھولا تھا، جبکہ بعض بھارتی جہاز اس وقت گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جب ایران نے دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عالمی رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی فورسز نے متعدد جہازوں کو روکنے یا واپس موڑنے کے اقدامات بھی کیے، جبکہ کچھ جہازوں پر فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر نارمل نہیں بلکہ سخت سکیورٹی کنٹرول میں ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عام حالات میں آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے جہاں تمام ممالک کو گزرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، تاہم جنگی حالات میں یہ اصول عملی طور پر محدود ہو جاتے ہیں اور ریاستیں اپنی سکیورٹی کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی امجد طہٰ کے بیان کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں صارفین نے اسے اشتعال انگیز اور سیاسی بیانیہ قرار دیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کا مقصد خطے میں موجود سفارتی ہم آہنگی کو متاثر کرنا اور کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے مکمل جغرافیائی، عسکری اور سفارتی تناظر میں دیکھا جائے، کیونکہ جزوی معلومات پر مبنی بیانیہ نہ صرف گمراہ کن ہوتا ہے بلکہ خطے میں غلط فہمیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔

دیکھئیے:فاکس نیوز رپورٹ: ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطوں میں متحرک

متعلقہ مضامین

اداکارہ کے مطابق ریہرسل کے دوران انہیں ایک مخصوص لباس پہننے کا کہا گیا جو گلیمرس انداز کا تھا، تاہم انہوں نے پہلی شرط رکھتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے کلچر کے مطابق شلوار قمیض اور دوپٹہ ہی پہنیں گی۔ ریما نے کہا کہ جب ہم اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں تو ثقافت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

April 19, 2026

کراچی کی جانب سے ریزا ہینڈرکس 49 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ عباس آفریدی نے 34 اور معین علی نے 27 رنز اسکور کیے۔

April 19, 2026

تاجک سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ کارروائی سرحدی نگرانی کے معمول کے عمل کا حصہ تھی، جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کی جانب سے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

April 19, 2026

وائرل ویڈیو میں مذکورہ شخص ننگرہار میں ایک سکیورٹی چوکی کے سامنے کھڑے ہو کر علاقے کی صورتحال دکھاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ویڈیو میں وہ افغانستان میں غربت، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے طالبان حکومت کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

April 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *