...
ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سست روی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے دوسرے ایٹمی طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی کی تیاریاں مکمل کر لیں

February 13, 2026

وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ لازوال رشتے پر یقین رکھتے ہیں، آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی

February 13, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرے سے قبل بھارتی ٹیم مشکلات کا شکار، اوپنر ابھیشیک شرما معدے کے انفیکشن کے باعث میگا ایونٹ کے اہم ترین میچ سے باہر ہو سکتے ہیں

February 13, 2026

مقبول ٹی وی سیریز ‘ڈاسنز کریک’ کے معروف امریکی اداکار جیمز وان ڈیر بیک کینسر کے باعث 48 برس کی عمر میں چل بسے، مداحوں اور شوبز شخصیات کا اظہارِ تعزیت

February 13, 2026

بانیٔ پی ٹی آئی کی بہن نورین خانم کی جانب سے جیل خانہ جات کے افسر عبدالغفور انجم کو سوشل میڈیا پر مبینہ دھمکیاں دینے کے بعد قانونی ماہرین نے اسے پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دے دیا

February 13, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تزویراتی دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا

February 13, 2026

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا افغان مہاجرین سے متعلق وزیرِاعظم کو کھلا خط؛ پاکستانی ماہرین نے مؤقف واضح کر دیا

پاکستانی مؤقف کے مطابق اگرچہ عالمی برادری کو افغانستان کی سیاسی صورتحال پر تحفظات ہو سکتے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ افغانستان اب اس نوعیت کا فعال جنگی علاقہ نہیں رہا جو دہائیوں قبل بڑے پیمانے پر ہجرت کا سبب بنا تھا۔ اس بدلتی صورتحال میں افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی ایک معقول، قانونی اور اخلاقی توقع ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا افغان مہاجرین سے متعلق وزیرِاعظم کو کھلا خط؛ پاکستانی ماہرین نے مؤقف واضح کر دیا

پاکستان کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داری افغان عبوری حکام اور بین الاقوامی برادری پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بحالی اور انضمام کو یقینی بنائیں۔

January 10, 2026

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے پاکستان میں افغان مہاجرین کی مبینہ غیرقانونی حراست، ہراسانی اور بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغان شہریوں کی ملک بدری روکی جائے جبکہ بین الاقوامی تحفظ کے متقاضی افراد کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔

تاہم پاکستان کے سرکاری اور پالیسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں سے زائد عرصے کے دوران پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی ایک ایسی انسانی روایت قائم کی ہے جس کی مثال عالمی سطح پر کم ہی ملتی ہے۔ پاکستان نے اس وقت اپنی سرحدیں کھولیں جب افغانستان میں جنگ، غیر ملکی افواج کی موجودگی اور ریاستی نظام کا خاتمہ ہو چکا تھا، اور اس دوران پاکستان نے سماجی، معاشی اور سکیورٹی دباؤ بین الاقوامی برادری کی مؤثر مدد کے بغیر برداشت کیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ مہمان نوازی ایسے وقت میں جاری رہی جب خود پاکستان دہشت گردی، معاشی مشکلات اور قدرتی آفات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ قانونی پہلو سے وضاحت کی گئی ہے کہ افغان شہریوں کے تمام پروف آف رجسٹریشن اور افغان سٹیزن کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس کے باوجود پاکستان نے برسوں تک خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان میں بارہا توسیع کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعات کسی قانونی حق کے تحت نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے حسنِ نیت اور خیرسگالی کے طور پر دی گئیں، جبکہ پاکستان 1951 کے ریفیوجی کنونشن کا دستخط کنندہ بھی نہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ جن حالات کی بنیاد پر افغان شہریوں نے پاکستان کا رخ کیا تھا، یعنی جنگ اور ریاستی انتشار، وہ اب بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں کیونکہ افغانستان میں ایک واحد حکومت ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق اگرچہ عالمی برادری کو افغانستان کی سیاسی صورتحال پر تحفظات ہو سکتے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ افغانستان اب اس نوعیت کا فعال جنگی علاقہ نہیں رہا جو دہائیوں قبل بڑے پیمانے پر ہجرت کا سبب بنا تھا۔ اس بدلتی صورتحال میں افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی ایک معقول، قانونی اور اخلاقی توقع ہے۔

پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کوئی بھی ملک غیر معینہ مدت تک لاکھوں غیر دستاویزی غیر ملکی شہریوں کی میزبانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس عمل کو جبری بے دخلی کے بجائے اپنے وطن واپسی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق پاکستان نے مرحلہ وار، منظم اور انسانی بنیادوں پر واپسی کے لیے مناسب مہلت، بارہا ڈیڈ لائنز اور سہولیات فراہم کیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داری افغان عبوری حکام اور بین الاقوامی برادری پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بحالی اور انضمام کو یقینی بنائیں۔ پالیسی سازوں کے مطابق مستقل حل یہ نہیں کہ بوجھ ہمیشہ پڑوسی ممالک پر ڈالا جائے بلکہ افغانستان کے اندر ترقیاتی امداد، روزگار کے مواقع اور بحالی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔

آخر میں پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ انسانی اقدار، علاقائی استحکام اور باعزت واپسی کے اصولوں پر قائم ہے، تاہم مہمان نوازی افغان ریاستی ذمہ داری کا مستقل متبادل نہیں بن سکتی اور سخاوت کو قانونی مجبوری کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ پاکستان کے مطابق پائیدار حل رضاکارانہ واپسی، افغانستان میں عالمی معاونت اور منصفانہ بوجھ کی تقسیم میں مضمر ہے۔

دیکھیں: پاک بحریہ کی شمالی بحیرۂ عرب میں بڑی مشق، جدید میزائل اور بغیر پائلٹ نظاموں کا کامیاب مظاہرہ

متعلقہ مضامین

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سست روی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے دوسرے ایٹمی طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی کی تیاریاں مکمل کر لیں

February 13, 2026

وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ لازوال رشتے پر یقین رکھتے ہیں، آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی

February 13, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرے سے قبل بھارتی ٹیم مشکلات کا شکار، اوپنر ابھیشیک شرما معدے کے انفیکشن کے باعث میگا ایونٹ کے اہم ترین میچ سے باہر ہو سکتے ہیں

February 13, 2026

مقبول ٹی وی سیریز ‘ڈاسنز کریک’ کے معروف امریکی اداکار جیمز وان ڈیر بیک کینسر کے باعث 48 برس کی عمر میں چل بسے، مداحوں اور شوبز شخصیات کا اظہارِ تعزیت

February 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.