"> قومی اسمبلی یا سیاسی سرکس؟ قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے پر پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا، جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی - HTN Urdu قومی اسمبلی یا سیاسی سرکس؟ قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے پر پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا، جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

قومی اسمبلی یا سیاسی سرکس؟ قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے پر پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا، جنید اکبر اور اقبال آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی

یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی اراکین کی لڑائی

یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک ریاستِ مدینہ کا ڈھونگ رچا رہے تھے لیکن آج ایوان کے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

May 13, 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب پی ٹی آئی کے دو اراکین جنید اکبر اور اقبال آفریدی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ یہ شرم ناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب اقبال آفریدی نے ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً کورم کی نشاندہی کی۔ اس اقدام پر دونوں اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور تھپڑوں میں بدل گئی جس سے پارلیمان کا وقار ایک بار پھر پاؤں تلے روندا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک ریاستِ مدینہ کا ڈھونگ رچا رہے تھے لیکن آج ایوان کے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ پی ٹی آئی کے اراکین کی جانب سے پارلیمان کو سرکس بنانے کے اس عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سیاسی شعور ہے اور نہ ہی پارلیمانی آداب کا پاس ہے۔ ان کے پاس صرف ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر حملے کرنے کی ہمت ہے جبکہ کورم جیسے پارلیمانی ضابطے بھی یہ صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی کرسی اور فنڈز کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے جہاں عوام کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ جب ان انقلابیوں کا اندرونی مفاد ٹکراتا ہے تو یہ ایک دوسرے پر جانوروں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ یہ گروہ خود کو ظلم کے خلاف جدوجہد کا علمبردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں یہ خود ایک دوسرے کے لیے سب سے بڑا ظلم ثابت ہو رہے ہیں۔

قومی اسمبلی جیسے مقدس ایوان میں اس طرح کا تماشہ لگانے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ان اراکین نے اسی طرح دست و گریبان ہونا ہے تو سڑکوں پر جا کر لڑیں تاکہ کم از کم پارلیمان کی عزت تو بچ سکے۔ پی ٹی آئی کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جو تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔

دیکھئیے: اشرافیہ کے لئے قانون کی الگ رفتار؟ ایمان مزاری کیس میں سپریم کورٹ کی غیر معمولی تیزی پر سوالات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *