اسلامی شریعت اور نظامِ حکومت میں نظم و ضبط اور امن عامہ کو ایک بنیادی شرعی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ لغت میں البغی کے معنی حد سے تجاوز کرنے، ظلم کرنے اور سچی بات سے انحراف کرنے کے ہیں، جبکہ خروج کے معنی اطاعت سے باہر ہونے اور سرکشی کرنے کے ہیں۔ فقہی اصطلاح میں جمہور فقہاء کے نزدیک بغاوت سے مراد ریاست کے آئینی و شرعی حکمران کی اطاعت سے نکل کر اس کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا ہے۔ بغاوت کے تحقق کے لیے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، جن میں باغی گروپ کے پاس طاقت اور اسلحہ کی موجودگی، ان کا کوئی بظاہر دینی یا سیاسی جواز پیش کرنا، اور ریاستی قوانین کی اطاعت سے علانیہ انکار شامل ہیں۔
شریعت میں محاربہ یعنی ڈکیتی اور دہشت گردی کا مقصد ذاتی مفاد یا خوف پھیلانا ہوتا ہے، جبکہ بغاوت کا مقصد سیاسی اقتدار میں تبدیلی یا کسی تاویل کی بنیاد پر ریاست کے خلاف منظم مسلح کارروائی کرنا ہے۔
قرآن پاک، احادیثِ نبویہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں اسلامی ریاست کے اجتماعی نظم کے خلاف خروج کرنا مطلقاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ سورۃ الحجرات کی آیت نمبر نو میں باغی گروہ سے اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ ریاستی نظم و ضبط کی طرف واپس نہ لوٹ آئیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے اور جماعت کا ساتھ چھوڑنے والے شخص کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں اور اسے جاہلیت کی موت مرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
اگر حکمران ظلم یا فسق کا ارتکاب کرے تب بھی جمہور اہل السنت اور ائمہ اربعہ کا متفقہ موقف یہی ہے کہ اس کے خلاف مسلح بغاوت ناجائز ہے، کیونکہ اس سے پیدا ہونے والی خونریزی اور انارکی حکمران کے ظلم سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوتی ہے۔ خروج صرف اس صورت میں جائز ہوتا ہے جب حکمران سے صریح اور واضح کفر صادر ہو جائے جس پر قطعی دلیل موجود ہو۔
تاریخِ اسلام میں خوارج کا فتنہ سب سے پہلا منظم اور مسلح فکری فتنہ تھا جنہوں نے تحکیم کے واقعے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سمیت جلیل القدر صحابہ کی تکفیر کی اور ان کے خلاف مسلح جدوجہد کو جہاد کا نام دیا۔ خوارج کا سب سے بڑا انحراف یہ تھا کہ وہ گناہِ کبیرہ کے مرتکب مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے تھے اور کفار کے بارے میں نازل ہونے والی آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے امت کو خبردار فرمایا تھا کہ وہ عبادت میں غلو کرنے والے اور فہمِ قرآن سے محروم لوگ ہوں گے جو اہلِ اسلام کو قتل کریں گے۔
صحابہ کرام نے خوارج کے اس تکفیری نظریے کا علمی اور عملی دونوں طریقوں سے رد کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان کے کیمپ میں جا کر ایسا دندان شکن علمی مناظرہ کیا کہ ہزاروں لوگ تائب ہو گئے، اور حضرت علی نے اس وقت تک ان سے قتال نہیں کیا جب تک انہوں نے مسلح بغاوت اور معصوم شہریوں کا قتلِ عام شروع نہیں کیا۔
اس فکری اور تاریخی پس منظر میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری (بانی تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک) نے اپنی جماعت، خطابات اور تحریروں کے ذریعے خوارج، تکفیری عناصر اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے گروہوں کا انتہائی سخت، واضح اور علمی انداز میں رد کیا ہے۔ انہوں نے معاصر تکفیری و دہشت گرد تنظیموں (مثلاً طالبان اور داعش وغیرہ) کو واضح طور پر “دورِ حاضر کے خوارج” قرار دیا ہے جو دین کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر کے معصوم شہریوں، مساجد اور سیکیورٹی اداروں پر حملے کرتے ہیں۔
دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف ان کی خدمات میں ان کا مرتب کردہ الفتویٰ الاِرهاب و التفجیرات دنیا بھر میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جس میں انہوں نے قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اسلام میں نہ تو خودکش حملوں کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی ریاستِ مسلمہ کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کوئی اجازت ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ اسلامی ریاست کا آئین اور قانون ہی معاشرے میں نظم و ضبط کی بنیاد ہیں، اور ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنا یا متوازی سسٹمز بنانا بغاوت اور فساد فی الارض ہے۔ انہوں نے فکری سطح پر انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نصابِ امن (کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت کی ہے تاکہ اسلام کا پرامن چہرہ اجاگر کیا جا سکے۔
اسلامی شریعت میں ریاست، اس کا آئین اور قانونی نظم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی بنیادی ضمانت ہے، اور کسی بھی غیر ریاستی گروہ کو متوازی حکومت قائم کرنے کی اجازت نہیں۔ جب کوئی گروہ بغاوت کا آغاز کرتا ہے تو ریاست سب سے پہلے مذاکرات اور اتمامِ حجت کے ذریعے ان کے شبہات دور کرتی ہے، لیکن اتمامِ حجت کے باوجود اگر وہ مسلح کارروائیاں جاری رکھیں تو امن کی بحالی اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے عسکری آپریشن کرنا ریاست کی شرعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
اس کارروائی میں حصہ لینے والے سیکیورٹی اہلکار شرعی طور پر مجاہدین اور شہداء کے مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ریاستی نظم اور مسلمانوں کے اتحاد کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔ شہریوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ یا مالی معاونت نہ دیں، ریاستی اداروں کا ساتھ دیں، اور افواہوں اور جعلی پراپیگنڈے سے بچیں۔
جدید دور میں کسی بھی مسلم ریاست کا آئین درحقیقت ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک باہمی معاہدہ ہے جس کی پاسداری کرنا شریعت میں فرض ہے۔ معاصر تکفیری و سلفی-جہادی تنظیمیں نفاذِ شریعت کے نام پر جو خودکش حملے اور ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتی ہیں، وہ سراسر بغاوت، فساد فی الارض اور حرام عمل ہیں۔
اکابرینِ امت اور جید علماء کے متفقہ قومی بیانیے کے مطابق ریاست کی اجازت کے بغیر مسلح کارروائیاں کرنا یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا خوارج کا طریقہ کار ہے۔ اس فتنے کا سدِ باب کرنے کے لیے عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ علمائے کرام، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو تکفیری افکار سے بچایا جا سکے اور معاشرے میں امن، اعتدال اور قانون کی بالادستی کو فروغ دیا جا سکے۔





