پاکستان نے روایتی جنگی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد روایتی زمینی جنگ اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہے۔
مئی 2025 کی پاک بھارت جھڑپ کے دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے روایتی ہتھیاروں کی اہمیت واضح ہوئی تھی۔ اس دوران بھارتی حملوں کے نتیجے میں فضائی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اگست 2025 میں اس نئی کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملک کی عسکری صلاحیتوں کو مستحکم بنانا ہے۔
اپریل 2026 میں پاک فوج کی جانب سے فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ عسکری تجزیوں کے مطابق یہ قدم خطے میں عسکری توازن برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
نئی میزائل صلاحیت روایتی عسکری ردعمل کے لیے مزید وسعت فراہم کرے گی۔ اس پیش رفت سے بھارت کو اپنے میزائل دفاعی نظام اور ابتدائی انتباہی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان میزائل صلاحیتوں میں مسابقت خطے میں غلط اندازوں اور کشیدگی کے خطرات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔





