افغانستان میں زیر تعلیم یا مقیم تقریباً 200 پاکستانی طلبہ وطن واپسی کے خواہاں ہیں، تاہم وہ تاحال پاکستانی سفارتی مشنز کی تصدیق کے منتظر ہیں جس کے باعث ان کی واپسی میں تاخیر کا سامنا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سفارتی مشنز کی جانب سے طلبہ کی فہرست کی باضابطہ تصدیق کے بغیر انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
طلبہ کے مطابق اگر سفارتی تصدیق نہ ہوئی تو انہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ طلبہ نے حکومت پاکستان سے فوری مداخلت اور تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس آ سکیں۔
اس حوالے سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں دفتر خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ افغانستان میں موجود پاکستانی طلبہ کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت بیرون ملک موجود پاکستانی شہریوں، بالخصوص طلبہ، کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، رہائش، خوراک اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی سفارتخانے فوری طور پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے تصدیقی عمل مکمل کریں تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق معاملے پر غور جاری ہے اور افغان حکام سے رابطے میں ہیں، تاہم سفارتی تصدیق کے عمل اور واپسی کے شیڈول سے متعلق تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک