قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دورِ حکومت میں قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) کے اربوں روپے کے ٹھیکوں، ہزاروں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور بے نامی جائیدادوں کے معاملات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تحقیقاتی دستاویز کے مطابق اپریل 2022ء سے اگست 2023ء کے دوران امان اللہ خان، عمر جان اور منظور آفریدی جیسے پسندیدہ ٹھیکیداروں کو 19.28 ارب روپے کے ترقیاتی ٹھیکے دیے جانے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان ڈاک میں 4,252 مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا ریکارڈ بھی زیرِ غور ہے۔
نیب دستاویزات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/4 کا ایک مکان ٹھیکیدار امان اللہ کے نام ہے، جسے مولانا فضل الرحمان کے زیرِ استعمال رہائش قرار دیا گیا ہے۔ اس جائیداد میں غیر قانونی تعمیرات پر سی ڈی اے نے نوٹس جاری کیے ہیں۔ نیب نے متعلقہ اداروں سے تمام مالی ریکارڈ، گاڑیوں اور جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔





